خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 931
خطبات طاہر جلد 13 931 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 دسمبر 1994ء آنحضرت ﷺ نے جو قرض کے معاملے میں اپنی سنت قائم فرمائی ہے اور نصیحتیں فرمائی ہیں وہ اتنی واضح ہیں کہ ان کے بعد سوسائٹی میں کسی قسم کے قرض سے تعلق رکھنے والے دیکھ کے باقی رہنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔اسی سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا، استطاعت رکھنے والے کا جب کہ سب کچھ موجود ہو قرض ادا نہ کرنا اور ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے۔جب تم میں سے کسی کا قرض کسی دولت مند کے ذمے لگایا جائے اور اس بات کو مان لے کہ قرض ادا کر دے گا تو قرض خواہ کو اس کی سپردگی اور حوالگی مان لینی چاہئے اور بے جا ضد نہیں کرنی چاہئے۔( بخاری کتاب الحوالہ حدیث نمبر : 2125) اس میں دو باتیں ہیں اول یہ کہ اگر تمہارے پاس توفیق ہے تو پھر لازما دو ورنہ تم ظالموں میں شمار ہو گے اور اگر توفیق نہیں ہے تو کوشش کرو کہ کوئی ایسا شخص جو متمول ہو اور جس کو تم پر اعتماد ہو وہ ذمہ داری قبول کر لے اور قرض خواہ کو یہ نصیحت فرما دی گئی ہے اس صورت میں کہ اگر وہ ذمہ داری قبول کر لیتا ہے تو تم مان لیا کرو پھر اور تنگی نہ ڈالا کرو۔الله ایسے موقع پر آنحضرت ﷺ کا خود اسوہ یہی تھا کہ ایک دفعہ مثلاً ایک یہودی نے آکر بہت سختی کی اور سخت کلامی کی یہاں تک کہا کہ آپ کے خاندان کا یہی پرانا طریق ہے کہ قرض لیتے ہیں واپس نہیں کرتے ، اور خاندانی طعن آمیزی جو ہے آج کل بھی جاری ہے، پرانے زمانے میں بھی یہود کیا کرتے تھے اور حدیثوں میں رواج موجود ہے کہ ایسے موقع پر قرض خواہ پھر تنگ کرتا ہے اور گستاخی کرتا ہے لیکن ایسے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت غصہ آیا۔وہ موجود تھے اور انہوں نے تلوار پر ہاتھ ڈالا کہ ایسا بد تمیز اور بداخلاق جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق زبان کھول رہا ہے تو آپ نے فرمایا عمر انہیں یہ نہ کرو تمہیں یہ کرنا چاہئے تھا کہ مجھے حسن ادا ئیگی کی نصیحت کرتے اور اس کو حسن طلب کا سلیقہ سکھاتے۔(حدیقۃ الصالحین صفحہ: 668)۔کیسا پیارا کلام ہے۔حضرت محمد رسول صلى الله اللہ ہے جو سب دنیا کو دونوں باتیں سکھانے کے لئے آئے تھے بجز اور انکسار کا یہ عالم ہے اور اصل میں ہمیں سکھانے کی خاطر حضرت عمر سے کہتے ہیں کہ مجھے نصیحت کرتے اور اس موقع پر جائز تھا کہ کوئی حرج نہیں۔مجھے کہتے کہ یار رسول اللہ وقت کے اوپر دینا آپ ہی کی تعلیم ہے خدا نے آپ کو عطا کی ہے اور خود کہہ کر یہ نصیحت مانگنا بتاتا ہے کہ ایک ادنیٰ بھی آنحضور ﷺ کی طبیعت پر یہ گراں نہ گزرتا۔