خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 932 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 932

خطبات طاہر جلد 13 932 خطبہ جمعہ فرمود و 9 / دسمبر 1994ء مگر صحابہ کا ادب تقاضا کرتا تھا کہ جن سے سیکھتے ہو ان کو سکھانے کی کوشش تو نہ کر و کم سے کم۔تو دوسرے لفظوں میں جو بات آنحضور نے نہیں بتائی وہ حضرت عمر اور دیگر صحابہ سمجھتے تھے لیکن جہاں تک طلب فرمائی کرنے والے کا تعلق ہے اس کو نصیحت کرنا یہ جائز ہی نہیں تھا بلکہ ضروری تھا کہ اس سے کہا جاتا کہ دیکھو تم نے مطالبہ کیا ہے تمہارا مطالبہ پورا ہوگا لیکن یہ باتیں بنانا جائز نہیں لیکن اس نصیحت کے بعد آنحضرت ﷺ نے ایک ضامن وہیں سے لیا یہ نہیں فرمایا کہ یہ بعد میں دے گا فرمایا جاؤ اس کو ابھی دو اور جتنا حق ہے اس سے زیادہ دو۔اب یہ بھی ایک نیا اسلوب داخل فرما دیا قرض لینے اور دینے کے معاملات میں کہ باوجود اسکے کہ گستاخی کر رہا تھا اس کے ساتھ کوئی سختی نہیں فرمائی بلکہ اس کو اور زیادہ دینے کی نصیحت فرمائی اور کہا یہ سچ کہتا ہے جو وقت تھا اس سے کچھ اوپر گز ر گیا ہے۔پس اگر توفیق نہیں ہے تو تب ایسے لوگ جن سے تمہارے تعلقات ہیں، جن کو تم پر اعتماد ہے وہ ایسے موقع پر مدد کر سکتے ہیں اور فرمایا کہ جو قرض طلب کرنے والا ہے اگر ایسے موقع پر کوئی ضامن پیش کیا جائے خواہ وہ فوری ادا ئیگی نہ بھی کر سکے تو قرض کے طلب کرنے والے کے اوپر مناسب یہی ہے کہ وہ سہولت دے۔پھر ایک موقع پر فرمایا کہ اگر تم تنگی دیکھتے ہو تو ضامن کے بغیر بھی ویسے ہی سہولت دے دیا کرو۔اگر کوئی شخص قرض لے بیٹھا ہے اور مشکل میں مبتلا ہے تو مطالبہ کرنے میں بھی سختی نہ کرو۔تو ایک طرف ادائیگی کرنے والے پر ذمے داری ڈالی کہ اگر تمہیں توفیق ہے تو لا ز ما ادا کرو۔دوسری طرف مطالبہ کرنے والوں کو ادب سکھایا کہ ایسے موقع پر مطالبے میں سختی نہیں کرنی چاہئے بلکہ جہاں تک ممکن ہے ڈھیل دینے کی کوشش کرو۔یہ باتیں اگر ایک سوسائٹی میں داخل ہو جائیں تو لازماً ضرورت مند کی جائز ضرورتیں قرضوں کے ذریعے پوری ہو سکتی ہیں اور قرضہ والے کو بھی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی بلکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی با اخلاق انسان نے جتنا قرضہ لیا ہے اس سے بھی زیادہ واپس کر دے اور کسی سود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔سوسائٹی کے آپس کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں جیسے کسی مشین کو Lubricate کر دیا ہوا چھی طرح اس میں مناسب تیل دے دیا جائے تو کل پرزے چلتے ہیں لیکن آواز تک نہیں آتی لیکن اگر یہ Lubrication کا انتظام نہ ہوتو چیخوں کی آوازیں ،شور کی آوازیں ، کھٹا کھٹ کی آوازیں آنی شروع ہو جاتی ہیں ،مشینیں گرم ہو جاتی ہیں گرم ہو کے Jam ہو جاتی ہیں۔تو سوسائٹی کا بھی یہی حال ہے وہ بھی بداخلاقیوں سے گرم ہوتی ہیں،شور