خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد 13 930 خطبہ جمعہ فرمودہ 9 / دسمبر 1994ء لیکن جب بھی ان کو قرضہ دیا جاتا ہے ان میں سے کسی کو ، وہ اپنے وعدے کے مطابق واپس کرتے ہیں خواہ ان کو اپنی تجارت بیچنی پڑے۔اب غانا کا معاملہ ہے ابھی دو دن ہوئے ہیں میرے پاس ایک معاملہ پیش ہوا غانا اور بعض غریب افریقن ملکوں میں ہم نے یہ سکیم شروع کی ہوئی ہے کہ جن لوگوں کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے ان کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے تجارتی قرضہ دیتے ہیں اور سہولت دیتے ہیں کہ اپنی مرضی بتاؤ کہ کب تک واپس کر سکو گے۔تو ایک شخص جس کو قرضہ دیا گیا تھا اس کی مدت واپسی کی آگئی اس نے ایک ایک پائی واپس کی لیکن ساتھ یہ لکھا کہ میں نے واپس کر دیا ہے لیکن میری تجارت کو یہ روپیہ نکالنے کی وجہ سے ایسا دھکا لگا ہے کہ پھر مجھے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا ہے۔تو میں نے اسی وقت ان کو وہ سہولت دوبارہ دلوادی کیونکہ جو شرافت ہے یہ جب بولتی ہے تو اثر رکھتی ہے۔ایک دیانت دار کی بات میں بڑی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اگر وہ نہ دیتا اور ٹالتا رہتا جیسا کہ ہمارے ملک میں اکثر پاکستان میں خصوصیت سے اور ہندوستان میں بھی عموماً یہ بات پائی جاتی ہے ، ہندوستان میں عموماً میں نے اس لئے کہا ہے کہ مجھے ذاتی طور پر علم ہے لیکن پاکستان تو میں جانتا ہوں کہ قرضہ لیا واپسی کی نوبت ہی نہیں آرہی۔صاحب توفیق بھی ہے تب بھی نہیں دے رہا اور اگر توفیق نہیں ہے تو پھر بھی ٹالتا ہے وقت کے اوپر آکر ذمہ داری کا نمونہ نہیں دکھا تا بلکہ اچھا جی آج نہیں کل دے دیں گے۔کل نہیں تو پرسوں دے دیں گے اور جو ٹالتا ہے اس میں جھوٹ ہوتا ہے۔اگر ٹالنے میں مجبوری ہو تو وہ ٹالنا قابل برداشت ہے لیکن جس ٹالنے میں پتا ہے کہ میں نے نہیں دینا اس میں وہ پھیرے ڈلوانے والی بات ہے اور وہ حسن جس بے چارے نے اپنی ضرورت کاٹ کر یا زائد میں سے کچھ رقم ایک دفعہ دے دی وہ ایسا اس کی نظر میں برا بن جاتا ہے کہ وہ گویا اس پر ظلم کرنے آ رہا ہے۔جب اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اس کو آگے سے پھر سختی سے جواب ملتا ہے، میرا پیچھا چھوڑ وہ نہیں ہیں،اس وقت میں نہیں دے سکتا۔تو بد تمیزیاں بھی ساتھ شروع ہو جاتی ہیں۔تو چھوٹے چھوٹے معاملات میں اگر نیتیں گندی ہوں تو ساری سوسائٹی کے معاملات گند سے بھر جاتے ہیں تعفن پیدا ہو جاتا ہے، ان میں بد بو پیدا ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ اسی بناء پر لڑائیاں بڑھیں اور بہت بڑھ گئیں اور مارکٹائیاں بھی ہوئیں کہ ایک شخص غریب نے قرضہ دے دیا تھا کسی کو ، وہ مطالبے کے لئے جاتا رہا یہاں تک کہ اسکے بچوں نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کو ز و دوکوب کیا کہ تم ہوتے کون ہو ہمیں تنگ کرنے والے۔