خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 894
خطبات طاہر جلد 13 894 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 رنومبر 1994ء بدلتا ہے تو اس جڑ سے پھر وہ فساد کا اور خبیث پودا نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے یہ ساری جڑیں بیان فرما دی ہیں اور ضروری نہیں کہ یہ ہر وقت ہر ایک کو دکھائی دیں۔ان میں سے ہر ایک چیز ایسی ہے جس میں یہ مادہ موجود ہے کہ وہ سر اٹھائے اور نہایت ہی خبیث درخت بن جائے جس کے پھل سے جنتیں جہنموں میں تبدیل ہو سکتی ہیں وہ شجر ممنوعہ ہے ہر ایک ان میں سے، جس کے بعد جنتوں کے امن اٹھ جایا کرتے ہیں تو ہم نے تو دنیا کے حالات تبدیل کرنے ہیں اور جنت اپنے معاشرے میں پیدا کئے بغیر کیسے کسی کو بلا سکتے ہیں۔اس لئے بحثوں کے بھی کچھ وقت ہوتے ہیں۔اختلافات کو دلیلوں سے حل کرنے کے بھی موسم ہوا کرتے ہیں لیکن آج کل کا جو دور ہے اس میں سب سے زیادہ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے اعمال سے ایک ایسا حسین معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کریں کہ وہ دیکھیں اور انہیں محسوس ہو کہ جنت ہے تو یہاں ہے اور اس میں آئے بغیر انہیں تسکین نہ ہو، انہیں امن میسر نہ آئے۔یہ وہ باتیں ہیں جو محض کوئی فرضی اوپر کے دائرے میں دوڑنے والی باتیں نہیں ہیں یہ وہ روز مرہ کی زندگی میں ہر گھر میں ہونے والی باتیں ہیں جن کے متعلق میں آپ سے گفتگو کر رہا ہوں۔ایسی باتیں ہیں جن کا بڑے شہروں سے تعلق ہے نہ تعلیم یافتہ سوسائٹیوں سے تعلق ہے۔ہر انسان کی ہر زندگی سے، خواہ وہ گلیوں میں پلنے والا بچہ ہو، خواہ وہ محلوں میں پالا پوسا جانے والا لعل ہو، ہر ایک سے برابر کا تعلق ہے، ہر غریب سے غریب گھر سے بھی تعلق ہے،امیر سے امیر گھر سے بھی تعلق ہے۔پس غور سے سن لیں کہ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہمیں باز رہنا ہوگا باز آنا پڑے گا ورنہ نہ ہم جنت حاصل کر سکتے ہیں نہ دنیا کو جنت دینے کے دعویدار بن سکتے ہیں۔فرمایا، بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے اور بدظنی ایک ایسی چیز ہے جو بسا اوقات ہمارے معاشرے میں اتنی پائی جاتی ہے کہ بدظنی کے بعد پھر اور کہانیاں بنتی چلی جاتی ہیں اور انسان کہتا ہے کہ فلاں نے یہ کہا، یوں کیا ہوگا اور بعض دفعہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ایک اس سلسلہ میں تحقیق میں نے کی۔ایک شخص نے ایک ایسی بات کسی کے متعلق بیان کی جو میرے علم میں تھی کہ بالکل جھوٹ ہے اور جب میں نے جواب طلبی کی تو عجیب و غریب خط آیا کہ اس نے جو فلاں بات کی تھی اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یوں کی ہوگی۔اس کا اثر فلاں شخص پہ جو میں نے کہا تھا پڑا ہے وہ اس لئے لکھا تھا کہ اس شخص کا میں نے اندازہ لگایا کہ جب یہ بات ایسی کی ہے اور اس وجہ سے کی ہوگی تو جب یہ