خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 893 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 893

خطبات طاہر جلد 13 893 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 /نومبر 1994ء دل میں ہوتا ہے۔کس کس کے دل میں ہوتا ہے کس کس میں نہیں ہوتا۔ارب ہادل ہیں جن میں تقویٰ نے جھانک کر بھی نہیں دیکھا ہوا۔اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ تقویٰ یہاں ہے سے مراد تقوی دل میں ہے۔مراد یہ ہے کہ میرے دل میں ہے اگر دل کا حوالہ ہے تو یہ مراد ہے کہ تقویٰ محمد مصطفی اے کے دل میں ہے۔آپ کا سینہ تقویٰ کے نور سے روشن ہے۔اگر تم نے تقویٰ سیکھنا ہے تو آنحضور ﷺ سے سیکھو اور کوئی راہ نہیں ہے تقویٰ کی حقیقت کو سمجھنے کی۔پس اس پہلو سے آپ نے یہ ساری باتیں جو بیان فرمائی ہیں وہ تقویٰ کا ملخص بیان فرمایا ہے۔اب غور کر کے دیکھیں کن کن جگہوں پر ہم ٹھو کر کھاتے ہیں ان ان جگہوں پر بچنے کے سائن بورڈ لگا دیئے اور تقویٰ کا ایک معنی بچنا بھی مراد ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہاں ٹھوکر میں ہیں کہاں خطرناک موڑ ہیں کہاں گڑھے ہیں کہاں اور قسم کے خطرات تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔اس زندگی کے سفر میں بیان کردہ سائن بورڈ زیا جونشان لگادئے گئے ہیں ان کو غور سے دیکھنا اور ان کے خلاف عمل نہ کرنا ورنہ خود نقصان اٹھاؤ گے۔پھر فرمایا ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ہر مسلمان کی تین چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔اس کا خون ، اس کی آبرو، اس کا مال۔اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر ہے (مسلم کتاب القسامہ) اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، دوسرے کے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو، ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو، اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔(مسلم کتاب البر والصلہ حدیث : 4650) تو اس میں وہ تمام خطرات بیان فرما دیئے گئے جو عموماً معاشرے کا امن بگاڑنے پر منتج ہوتے ہیں، اس کا محرک بنتے ہیں، اس کی وجہ بن جاتے ہیں اور اتنا کھول کھول کر بیان فرما دیا گیا ہے کہ اگر ہم اپنے معاشرے میں یعنی احمدی معاشرے میں اس حدیث کی روشنی میں اپنے اعمال کی نگرانی شروع کریں تو سب سے پہلے یہ صدمہ پہنچے گا دیکھ کر کہ ابھی بہت کچھ سیکھنا اور بہت کچھ کرنا ہے۔کیونکہ ان میں بہت سے ایسی باتیں ہیں جو عام طور پر اچھے نیک لوگوں میں بھی کسی نہ کسی حد تک اور کسی نہ کسی مرتبے تک پائی جاتی ہیں اور جب وہ جڑ موجود رہتی ہے تو جب وقت آتا ہے، جب موسم