خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 895 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 895

خطبات طاہر جلد 13 895 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 رنومبر 1994ء دوسرے کو پہنچی ہوگی تو اس کا یہی ردعمل ہوا ہوگا۔اس لئے میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔اب دیکھیں رسول الله ﷺ فرماتے ہیں، یہ سارا بد ترین جھوٹ ہے۔بنا ہی استدلال کی جھوٹ پر ہے۔اول تمہیں کس طرح پتا لگا کہ اس نے کس نیت سے بات کی تھی۔پھر یہ کیسے پتا چلا کہ دوسرا آدمی جس کے متعلق بات تھی اگر اس سے پہنچی بھی ہو تو وہ بھی اسی ٹیڑھی سوچ کے ساتھ سوچے گا جس سے تم نے سوچا اور وہی نتیجہ نکالے گا جو تم نے نکالا ہے اور پھر نہ یہ تحقیق کہ یہ اسے پہنچی بھی ہے کہ نہیں اور پھر ایک اور تیسری منزل بنالی کہ فلاں شخص کے متعلق میں نے سوچا کہ یہ اثر اس پر پڑا ہوگا اور خلاصہ یہ نکالا کہ یہ واقعہ ہو گیا۔ایسا بے ہودہ طریق ہے جو آنحضرت ﷺ کی کھلی نصائح کو ترک کرنے اور ان کو اہمیت نہ دینے کے نتیجے میں ہماری سوسائٹی میں رفتہ رفتہ پیدا ہو جاتا ہے اور یہ جوطن ہے یہ میں بتا رہا ہوں ایسے لوگوں کا، جن کے متعلق توقع ہے کہ وہ عالم دین بھی ہیں اور معاشرے میں ایک بڑا مرتبہ اور مقام رکھتے ہیں وہ بھی اس قسم کی بے ہودہ باتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔پھر فرمایا ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔اب بہت سے جھگڑے ہمارے پاکستان سے آئے ہوئے بسنے والوں میں خصوصاً جرمنی میں جو پائے جاتے ہیں اس میں ایک بڑی وجہ دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں لگے رہنا ہے۔ایسی بے ہودہ عادت اور اس کا اصل میں اگر مزید تجزیہ کریں تو اس کی ایک وجہ یہ بنتی ہے کہ ایک انسان جب دوسرے کو اپنے سے اچھا دیکھے اور خود اچھا بننے کی صلاحیت یا طاقت نہیں ہے کہ نیکی میں اس سے آگے بڑھ سکے تو اس کی ٹانگ کھینچ کے اپنے سے نیچا کرنے کی جو خواہش ہے وہ ہے جو ٹوہ لینے پر منتج ہوتی ہے کہ اچھاوہ ہمیں پتا ہے جیسا بنا پھرتا ہے، جیسے معاشرے میں عزت ہے چلو ہماری تو نہیں مگر ہم اس کی ایسی بات نکالیں گے کہ سارے معاشرے میں کہہ سکیں گے کہ یہ ہے وہ شخص، اصل حقیقت یہ ہے اور جو بد نیتی سے ٹوہ لگا تا ہے اس کی ٹوہ میں اور اس کے نتیجوں میں ظن لازماً شامل ہوتا ہے اور بدظن شامل ہوتا ہے جو ظن کی مکروہ شکل ہے اور پھر وہ ستنجس کر کے اس کے عیب اگر نکالتا بھی ہے تو اس کو خدا اور رسول نے حق ہی نہیں دیا ہے اس کو دوسروں کے سامنے بیان کرے۔بغیر تجس کے بھی آپ کے علم میں جو بات آتی ہے اسلامی معاشرے میں آپ کو کوئی حق خدا نے نہیں دیا کہ آپ بات کو اچھال کر عوام الناس میں پھیلائیں۔جو اولولا مر ہیں جن کے سپر د نظام کیا گیا ہے ان تک باتیں پہنچانا فرض ہے لیکن اتنی ہی باتیں جو سچی