خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 83

خطبات طاہر جلد 13 83 خطبه جمعه فرموده 4 فروری 1994ء توفیق عطا بخشے۔تمام احباب جماعت بنگلہ دیش، خواتین ، بچوں سب کو عالمگیر جماعتوں کی طرف سے محبت بھر اسلام ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔آپ کی دعا ئیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔اب ذکر کے مضمون میں میں نے جو آیات تلاوت کیں تھیں۔ان کے تعلق میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک عربی شاعر کہتا ہے۔ذکر تک ولخطي يفطر بنا وقد نهبت من المشقت الصلب فوالله ما ادرى وان لصادق اداء ارانی حبابک امس کہ اے میری محبوبہ میں نے تجھے اس وقت یاد کیا جب خطی نیزے ہم پر چل رہے تھے۔اور خون آلود نیزوں نے ہمارے خون پٹے ہوئے تھے۔خدا کی قسم مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آیا مجھے تیرے عشق کی وجہ سے کوئی بیماری لگ گئی ہے یا تیرے حسن کا جادو جو کر شمے دکھا رہا ہے۔او یہ بات خدا گواہ ہے کہ میں سچ کہہ رہا ہوں۔یہ مضمون دنیاوی شعراء کے حق میں تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس حد تک پورا ہوتا ہے۔بعض جنونی ایسے بھی ہوتے ہیں جو بندے کے فانی عشق میں اپنے آپ کو فنا کر دیتے ہیں۔لیکن فی الحقیقت یہ مضمون اللہ کی ذات پر اطلاق پاتا ہے۔بندے اور اللہ کے تعلق پر اطلاق پاتا ہے اور اس پہلو سے سب سے بڑی گواہی حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کی ہے۔شاعر تو اپنے متعلق کہتا ہے کہ میرا عشق شاید بیماری بن گیا ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق کفار یہ گواہی دیا کرتے تھے کہ عشق مُحَمَّدٌ رَبَّهُ كه محمد کو تو اپنے رب سے عشق ہو گیا ہے اور اس عشق کو بیماری کے طور پر بھی پیش کیا کرتے تھے۔کہتے یہ بیمار ہے۔مجبور ہے اس کو جنون ہو چکا ہے اور وہ عشق کا جنون ہے۔پس حقیقت میں جب سچا عشق ہو تو یہ کیفیات ضرور پیدا ہوتی ہیں اور سخت تکلیف کے وقت بھی جبکہ دنیا کی دوسری چیزیں بھول چکی ہوتی ہیں۔اس وقت بھی اپنا محبوب ضرور یاد رہتا ہے۔اور بشدت یاد آتا ہے۔تو یہ دنیا کے لوگ ہیں ان کو تکلیفوں کے وقت اپنے دنیا کے محبوب یاد آتے ہیں۔جو اللہ والے ہیں ان کا ذہن زیادہ سے زیادہ اللہ کی طرف جھکتا ہے۔لیکن ایک فرق ہے ان دونوں