خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد 13 84 خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1994 ء باتوں میں اللہ کی طرف مشقتوں اور تکلیفوں کے وقت بعض اوقات دہریوں کے ذہن بھی چلے جاتے ہیں۔وہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید اس راہ سے ہماری نجات مل جائے اگر کوئی ذات ہے اور ہماری آواز سن رہی ہے تو ہو سکتا ہے ہمیں بخش دے اور ہمیں اس مصیبت سے نجات بخش دے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم بعض دفعہ ایسی ہوائیں چلاتے ہیں جو نرم خو اور اچھی اچھی ہوائیں چل رہی ہوتی ہیں۔کشتی والے سمندر میں سفر کر رہے ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ان ہوا ؤں میں تیزی آجاتی ہے اور ہوائیں تند ہو جاتی ہیں اور خوفناک طوفان میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دعا کرنے والے گریہ وزاری سے خدا کی طرف جھکتے ہیں۔اے خدا اگر تو ہمیں اب بچالے تو ہم تیرے شکر گزار بندے بنیں گے یا نیکیوں کا دعوی کرتے ہیں یہ کریں گے۔اللہ جانتا ہے کہ جب وہ خشکی پر پہنچ جائیں گے تو ایسا نہیں کریں گے۔پھر وہ اپنے شرک اور کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔مگر اللہ پھر بھی ان کی اس دردناک پکار کوسن لیتا ہے۔تو ایسے بھی لوگ ہیں جو مصیبت کے وقت اور تکلیف کے وقت اور ہوسکتا ہے جنگ کی شدت کے وقت بھی اللہ کا نام لیتے ہوں مگر اسے ذکر الہی نہیں کہا جاتا ، وہ اپنی ذات کا ذکر ہے۔اپنی جان کو بچانے کے لئے جیسے فرعون نے غرق ہوتے وقت خدا کا نام لیا تھا۔وہ روح کی خاطر نہیں۔بدن کی خاطر ہے۔اللہ ان آیات میں جن عشاق کا ذکر فرما رہا ہے۔وہ وہ لوگ ہیں جو جائیں بچانے کے لئے خدا کو یاد نہیں کرتے بلکہ جانیں پیش کرنے کے لئے کرتے ہیں۔وہ دعائیں کرتے ہوئے جاتے ہیں کہ اے خدا ہماری جان اپنی راہ میں قبول فرمالے، اس کو ذکر الہی کہتے ہیں۔یہ ہے محبوب کا ذکر جو اس شان کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی اے اور آپ کے صحابہ کے حق میں پورا ہوا ہے۔تو تمام عالم میں اس کی مثال آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے میں ترجمہ کرنا بھول گیا تھا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو، جب تمہاری جنگ میں مٹھ بھیڑ ہو کسی گروہ سے، فَاثْبُتُوا تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا بہت کثرت سے ذکر کیا کرو۔لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم کامیاب ہونے والے ہو جاؤ۔وَأَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو وَ لَا تَنَازَعُوا اور آپس میں پھٹو نہیں، جھگڑے نہ کرو۔فَتَفْشَلُو اور نہ اس سے تم منتشر ہو جاؤ گے، پیٹھ دکھا کر