خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 878
خطبات طاہر جلد 13 878 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء غیبت کا پودا بھی رافت اور رحمت کے سائے تلے پرورش نہیں پاسکتا۔پس ایک یہ بھی طریق ہے۔پھر اور وسیع کر دیں اور بنی نوع انسان تک اس کی وسعت دے دیں تو اس کے نتیجے میں رحمۃ للعالمین کا تصور ہے جو آپ کو بنی نوع انسان کے لئے محبت کی بات نہیں میں کر رہا، مصنوعی محبت کوئی چیز نہیں ہے۔مصنوعی محبت ایک منافقانہ تصور ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے لیکن حقیقی محبت بنی نوع انسان سے پیدا ہونا یہ بہت گہرے، ایک قسم کے جہاد کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اب لفظ جہاداور محبت میں بظاہر کوئی جوڑ نہیں لیکن میں آپ کو حقیقت بتارہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کو جوطبعی پیار بنی نوع انسان سے تھا چونکہ وہ اللہ کی محبت سے براہ راست پھوٹ رہا تھا اس لئے اس میں کسی جہاد کی ضرورت نہیں تھی لیکن عام انسان جو ان باتوں سے دور ہوا سے اس لئے جہاد کی ضرورت رہتی ہے کہ اسے محسوس ہوگا کہ میری ابتدائی بنیادی محبت میں رخنہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت کے بچے تعلق استوار کرنا اور آنحضرت ﷺ سے وہ سچا محبت کا تعلق رکھنا جواز خود دوسری محبتوں پر اثر انداز ہو جائے اور اس کا فیض عام ہو جائے یہاں تک کہ تمام بنی نوع انسان پر پھیل جائے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اس کے لئے اپنی محبت پر نظر رکھتے ہوئے ، اس کی خامیوں پر نگاہ کرتے ہوئے، انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کا مزاج اور ذوق پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اعلیٰ درجے کے مزاج اور ذوق کے بغیر نہ اللہ سے محبت ہو سکتی ہے نہ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت ہو سکتی ہے۔اگر ذوق بگڑے ہوں تو محبوب بھی بگڑے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ ایک قدرتی بات ہے جسے نظر انداز کر کے بسا اوقات آپ اپنے اندرونی مسائل کا حل بھی تلاش نہیں کر سکتے۔سوچتے ہیں کہ میں اللہ سے بڑی محبت کی کوشش کرتا ہوں، دعائیں بھی کرتا ہوں، مزہ ہی نہیں آتا۔نہ نمازوں میں ، نہ نیکیوں میں اور میری کیوں نہیں سنی جاتیں۔ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کا ذوق بگڑا ہوا ہو اور ذوق بگڑنے کے نتیجے میں آپ کا ذہن ہمیشہ بعض دنیا کی ایسی لذتوں میں مگن رہے جو آپ کو طبعا اچھی دکھائی دیتی ہیں اور خدا کی محبت کا یا نیکی کا ذوق نہیں پیدا ہوا۔جب یہ ذوق ٹھیک نہیں ہوگا تو محبت فرضی رہے گی۔دعوے کی حد تک رہتی ہے طبعی قوت کے طور پر دل سے پھوٹتی نہیں ہے اور اس کے بغیر آپ کی اصلاح ممکن نہیں اور غیبت کا مسئلہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اتنا آسان نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔جب تک آپ کا ذوق درست نہیں ہوتا اور خدا کی وہ محبت دل میں پیدا نہیں ہوتی اور وہ نظر آپ