خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 877 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 877

خطبات طاہر جلد 13 877 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء میں تبدیل ہو سکتا ہے اور پھر اس تعلق سے بھی وہی طریق اختیار کریں یعنی اپنی محبت کو جو مسلمان سے مسلمان کو پہنچنی چاہئے کسی مسلمان کو محروم نہ کریں اور اس حوالے سے اللہ اور رسول کی محبت کا تصور کر کے مسلمانوں پر وہ محبت کا سایہ عام کریں جو آنحضرت ﷺ سے مسلمانوں کو پہنچتا تھا۔ان سے آپ براه راست محبت نہ سہی لیکن رسول اللہ اللہ سے تو عشق کا دعوی ہے۔اگر آنحضور سے محبت کا دعویٰ ہے تو آپ کے متعلق تو قرآن کریم میں لکھا ہوا ہے بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ یہ وہ رسول ہے جو مومنوں کے لئے رووف ہے یعنی خدا کی صفت روفی آپ کے متعلق بیان فرمائی گئی۔غیر معمولی نرمی رکھنے والا اور پیار اور شفقت اور رافت کا سلوک کرنے والا۔رحیم پھر اس کا رحم ختم ہی نہیں ہوتا۔بار بار ان کے لئے رحم جلوہ گر ہوتا ہے اور بار بار ان کے لئے رحم جوش مارتا ہے۔تو اگر آنحضرت ﷺ سے محبت ہے تو جس سے آپ کو محبت ہے اس سے بھی محبت ہونی چاہئے اور محبت ہو تو چغلی نہیں رہ سکتی ، یہ ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر غیو بت میں کوئی بات ہونی بھی ہے تو کچھ اور اعلیٰ مقاصد کی خاطر ہو گی مگر چغلی کی خاطر صلى الله نہیں ہوگی جیسا کہ میں نے مثال دی ہے۔آنحضرت تم سے آپ کی زوجہ مطہرہ نے سوال کیا یا رسول اللہ آپ چغلی فرما رہے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔میں نے جو کہا ہے وہ چغلی نہیں ہے۔کیونکہ آپ اپنے دل کی اندرونی تہہ بہ تہہ حالتوں پر نظر رکھتے تھے، جانتے تھے کہ کہیں بھی پوشیدہ محرکات میں کوئی رخنہ نہیں ہے، کوئی نیت کی ایسی خرابی نہیں جس کا تعلق کسی سے نفرت سے ہو یا کسی پر تفاخر کرنے سے ہو بلکہ بعض مقاصد بعض دفعہ کسی کی غیبوبت میں بھی بعض باتیں کرنی پڑتی ہیں اور وہ بالکل اور مقصد ہے وہ کوئی مجلسی شرارت نہیں ہے۔تو ان باتوں کو الگ رکھتے ہوئے میں بیان کر رہا ہوں کہ جس سے بھی آنحضرت ﷺ کو پیار تھا اگر آپ کو آنحضرت مے سے پیار ہے تو آپ کو بھی ویسا پیار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اور اس حوالے سے سارے مسلمان آپ کے رؤوف اور رحیم صلى الله بننے کے منتظر بیٹھے ہیں۔وہ چاہتے ہیں آپ ان سے رؤوف اور رحیم والا سلوک کریں کیونکہ آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ رؤوف اور رحیم کے عاشق ہیں۔پس اس پہلو سے اگر آپ اپنے تعلقات کو خیر کے پہلو سے وسیع کریں گے تو آپ کی خیر سب مسلمانوں پر سایہ فگن ہو جائے گی اور اس سائے کے نیچے غیبت کا پودا پنپتا ہی نہیں ہے۔بعض پودے ہیں جو بعض سایوں کے نیچے مر جاتے ہیں پس