خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 879
خطبات طاہر جلد 13 879 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء کو عطا نہیں ہوتی جس نظر سے خدا اپنے بندوں کو دیکھتا ہے اس وقت تک آپ کو پتا ہی نہیں لگے گا کہ آپ غیبت کرتے ہیں اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہیں اور اس سے کراہت کا نہ ہونا آپ کے بگڑے ہوئے ذوق کی نشانی ہے۔پس اتنی کھلی کھلی ایک نشانی ہمارے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے کہ اس کسوٹی پر اپنی اندرونی حالتوں کا جائزہ لینا ایک فرضی بات نہیں رہی بلکہ ایک یقینی حقیقت بن چکا ہے۔پس جس جس حد تک ہم اس کسوٹی کے ظاہر کردہ نتیجے کی رو سے ناکام ہورہے ہیں اس حد تک ہمیں اپنی فکر کرنی چاہئے۔یہ کسوٹی گویا کہ جھوٹ نہیں بولتی۔پس اپنے ذوق درست کریں تو پھر آپ کو خدا سے محبت ہو گی اپنے ذوق درست کریں پھر آپ کو رسول ﷺ سے محبت ہوگی۔اپنے ذوق درست کریں تب گنا ہوں سے دوری ہوسکتی ہے اور نیکیوں سے پیار ہوسکتا ہے ورنہ نہیں ہوسکتا۔پس غیبت کے حوالے سے میں اگلا آپ سے تقاضا یہ کرتا ہوں کہ اپنے دل کا یہ جائزہ لیں کہ آپ کو غیبت میں کتنا مزہ آ رہا ہے۔اگر ایک دم یہ نہیں چھٹتی منہ سے تو رفتہ رفتہ آپ جائزہ لیں تو آپ کے دل میں اس کا شوق و ذوق کم ہوتا چلا جا رہا ہے کہ نہیں۔اگر کم ہو رہا ہے تو شکر ہے آپ بیچ رہے ہیں۔آپ رو بصحت ہیں۔اگر زور لگا کر نصیحت سن کر آپ کہتے ہیں اب میں نے غیبت نہیں کرنی اور پھر کرتے ہیں اور مزہ اتنا ہی ہے تو اس کا مطلب ہے آپ کی اصلاح کوئی نہیں ہوئی۔زبر دستی تعلق کاٹنے کی کوشش کی گئی ہے اور جو طبعی رجحانات ہیں ان کے رستے زبر دستی بند نہیں ہوا کرتے کچھ دیر تک ہوں گے پھر وہ کھل جاتے ہیں اور پہلے سے بڑھ کر بعض دفعہ وہ بدیوں کا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے اس لئے غیبت کے معاملے کو اہمیت دیں اور اس گہرائی سے دیکھیں جس طرح میں نے آپ کے سامنے اس کو کھول کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم بحیثیت جماعت غیبت سے مبرا ہو جائیں تو ہمارا نظام بھی محفوظ ہو جائے گا۔ہمارے معاشرتی تعلقات بھی محفوظ ہو جائیں گے۔ہمارے اندر جتنی رخنہ پیدا کرنے والی باتیں ہیں وہ اگر سب دور نہیں ہوتیں تو ان میں غیر معمولی کمی پیدا ہو جائے گی۔اور وہ بدنتائج جو روزانہ شادیوں کی ناکامی کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں ان پر بھی غیر معمولی مثبت اثر ظاہر ہوگا۔اب آپ گھروں کا تصور کریں۔ہر گھر میں میں جا تو نہیں سکتا میری سوچ جاسکتی ہے اور