خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 875 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 875

خطبات طاہر جلد 13 875 خطبہ جمعہ فرموده 18 / نومبر 1994ء تھا اور اس وقت ہم سے زبر دستی ان کا کرنا ان کے اخلاص کے ایک خاص حد تک پہنچے ہوئے ہونے کی وجہ سے ان پر زیادتی بن جاتا تھا۔تو یہ چیزیں مصنوعی نہیں ہیں یہ عشق کے طبعی نتائج ہیں۔اور میں جب کہتا ہوں کہ محبت نظام جماعت والوں سے بھی پیدا کرو تو مصنوعی طریق کی محبت نہیں کہہ رہا۔آپ خدا سے جب محبت زیادہ کریں گے تب یہ محبتیں پیدا ہوں گی۔اگر اللہ سے سچا عشق ہے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس درجہ بدرجہ تعلق کے نتیجے میں عشق ہے تو آپ کے نظام سے بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ نظام جو وابستہ ہواس طرف اس سے انسان بے اعتنائی یا تکبر کی راہ اختیار کرے اور اپنی زبانیں بات بات پر کھولے اور بدتمیزی کے جملے ان کے متعلق کہے اور تمسخر کرے اور پھر غیبت کرے اور نظام جماعت کے اوپر تبصرے کرتے ہوئے لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھ کر یہ کہے جی فلاں، ہم نے دیکھ لیا امیر صاحب کو۔یہ ان کا حال ہے ان کے بیٹے کا یہ حال ہے، ان کی بیٹی ایسی تھی اور سارے مل کر بیٹھ رہیں اور گویا کہ اس طرح امیر کے بد ہونے سے وہ لوگ خدا کی نظر میں پاکباز ہورہے ہیں حالانکہ قرآن سے پتا چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنے جس مقام پر بھی فائز تھے اس سے بھی گرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ بد انجام کو پہنچ جاتے ہیں، ان میں غیبت بھی آجاتی ہے، منافقت بھی آجاتی ہے ان میں پھر رفتہ رفتہ بغاوت بھی پیدا ہوتی ہے۔بہتان تراشی بھی شامل ہو جاتی ہے۔یہ ملتی جلتی بیماریاں ہیں۔اکٹھی چلتی ہیں اس لئے غیبت کو کوئی معمولی بات نہ سمجھیں، غیبت سے کلیۂ اجتناب کریں اور اس کا ایک طریقہ اپنے محبت کے دائرے کو وسیع کرنا ہے۔جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے اللہ کے حوالے سے محبت وسعت اختیار کرتی ہے اور یہ بڑی واضح بات ہے لیکن جہاں تک عامتہ الناس کا اور احمدیوں کا تعلق ہے وہ بھی اسلام کے حوالے سے وسیع دائرے میں لازماً محبت سے تعلق رکھنے والا مضمون ہی رہتا ہے اور اس وسیع دائرے میں محبت اثر دکھاتی ہے۔چنانچہ بسا اوقات آنحضرت ﷺ نے اپنی نصیحتوں میں مسلمان کا ذکر کیا ہے۔مسلمان سے مسلمان کو یہ نہیں ہوتا، مسلمان سے مسلمان کو یہ نقصان نہیں ہوسکتا۔پہلے مجھے تعجب ہوا کرتا تھا کہ آنحضرت ﷺ تو رحمۃ للعالمین ہیں۔تو رحمۃ للعالمین ہوتے ہوئے صرف مسلمانوں کا فیض مسلمانوں کے حوالے سے کیوں بیان فرماتے ہیں۔لیکن جب مزید غور کیا اور اس مضمون میں ڈوب کر