خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 874 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 874

خطبات طاہر جلد 13 874 اور جو نظام جماعت چلانے والے ہیں ان سے ادب اور محبت کا رشتہ باندھیں یہ سوچ کر کہ ہم تو آزاد ہیں بہت سا ہمارا اپنا وقت اپنے ذاتی معاملوں میں خرچ ہو رہا ہے یہ شخص دین کی خاطر بندھا ہوا ہے۔اس سے تعلق رکھنا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کا موجب ہوگا۔خدا کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے گا کیونکہ ہم خدا کی خاطر اس سے تعلق رکھ رہے ہیں۔یہ اگر سوچ کر بالا رادہ انسان اپنی اپنی جماعت میں اپنے عہدیداروں کا احترام کرے خواہ وہ چھوٹے ہوں اور ان سے محبت کا طریق اختیار کرے خواہ ان سے محبت پیدا نہ ہوتی ہو۔مگر بعض دفعہ احترام محبتوں میں بدل جاتے ہیں اور بعض دفعہ محبتیں احترام پیدا کرتی ہیں یہ دونوں طبعی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔تو ان معنوں میں وہ بے ساختہ،بے اختیار محبت نہیں جو ایک جلوہ حسن سے پیدا ہوتی ہے۔وہ محبت جو بعض حسینوں کے تعلق اور واسطے سے پیدا ہوتی ہے میں اس کی بات کر رہا ہوں۔اگر کسی شخص سے محبت ہے تو اس سے تعلق والوں سے بھی ایک محبت ہوتی ہے۔وہ ذاتی طور پر محبت کا مستحق نہ بھی ٹھہرے لیکن جس حسین کی یاد سے وہ وابستہ ہے اس کے ساتھ محبت ہونا ایک طبعی امر ہے۔چنانچہ مجنوں کے عشق کی دلیل میں سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ مجنوں کو لیلی کے کتے سے بھی پیار تھا اور یہ امر واقعہ ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جب محبت پاگل ہو جائے ، اتنی بڑھ جائے کہ اس میں دیوانگی آ جائے تو ایسے شخص سے تعلق رکھنے والی ہر چیز سے محبت ہو جاتی ہے اور اس پر انسان کا اختیار نہیں رہتا۔تو جب میں محبت کہہ رہا ہوں تو آپ کو کوئی منافقت کی تعلیم نہیں دے رہا۔میں آپ کو گہری حقیقت بتارہا ہوں کہ محبت حقیقة واسطه بالواسطہ بھی اپنے اثر دکھاتی ہے اور جلوے دکھاتی ہے۔اسی لئے میں نے کئی دفعہ آپ کے سامنے صحابہ کی مثال رکھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ گو جو عشق تھا آج بھی بہت دعویدار ہیں مگر وہ شکلیں ہی اور تھیں ، وہ صورتیں ہی مختلف تھیں ، سراپا عشق تھے ان کی آنکھوں سے محبت برستی تھی، ان کے چہروں سے، ان کی کھالیں، ان کی جلدیں بولتی تھیں اور ایسے پچھلے ہوئے رہتے تھے وہ کہ سارا وجود ان کا اس محبت میں مخمور اور سراپا گداز رہتا تھا۔اسی لئے بچپن میں ہمارے لئے بڑی شرمندگی کے سامان ہوتے تھے۔ہم جانتے تھے کہ ہماری کوئی حیثیت نہیں۔کوئی بزرگ صحابی آیا ہے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ہاتھ زبردستی کھینچ کر پیار کیا اور اس وقت سمجھ نہیں آتی تھی شرمندگی سے ہم بھاگتے تھے لیکن بعد میں جب سوچا تو پتا چلا یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق تھا جو یہ جلوے دکھا رہا