خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 871
خطبات طاہر جلد 13 871 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء لوگ بسا اوقات مجھے لکھتے ہیں کہ فلاں ہم سے ایک جرم ہو گیا ،فلاں غلطی ہوگئی۔بعض دفعہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں بعض دفعہ اشارہ بات کرتے ہیں جو سمجھ میں آ جاتی ہیں۔مگر مجھے یہ یاد نہیں کہ کسی نے کہا ہو کہ مجھ سے غیبت ہوگئی تھی اللہ معاف کرے بڑا گند کیا ہے میں نے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھا بیٹھا ہوں اور اب مجھے کراہت اور متلی ہو رہی ہے۔خدا کے لئے دعا کریں اللہ اس بد نتیجے سے محفوظ رکھے۔کبھی آپ میں سے کسی کے ساتھ ایسا اتفاق ہوا ہوتو مجھے بتائے میرے ساتھ نہیں ہوا۔یہ مطلب ہے میرا کہ ذوق بدل چکے ہیں۔جہاں ذوق بدل جائیں وہاں گناہ کی نحوست کا احساس نہیں رہتا اور ایک ایسا شخص نصیحت سن کر بار بار وہی ٹھوکر کھاتا ہے لیکن اگر وہ خود اپنے آپ کو اس بھائی کی جگہ رکھے جس کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔پھر شاید وہ اس بات کو بہتر سمجھتا ہو اور اس شرمندگی کو یاد کرے جب ایسا شخص جس کی غیبت ہو رہی ہے اچانک کمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔کیسے کھسیانی ہنسی ہنستے ہیں وہ سارے مجلس والے، کیسے پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں؟ اور اس کا تاثر غلط ثابت کرنے کے لئے پھر جھوٹ بولنے لگ جاتے ہیں۔ہم تو یہ کہہ رہے تھے ، ہم تو وہ کہہ رہے تھے اور پھر جب الگ ہوتے ہیں تو پھر آپس میں خوب ہنستے ہیں اور شرمندگی کی جنسی کہ ہم سے آج خوب ہوا جس کی باتیں کر رہے تھے وہی پہنچ گیا۔یہ سب جرم کی نشانیاں ہیں۔ان کا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ جرم کر رہے تھے ورنہ یہ حرکتیں نہ ہوتیں۔بعض دفعہ ایسا واقعہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کسی کے متعلق بات کر رہا ہے مگر نیت اور ہے پاک نیت سے سمجھانے کی خاطر کر رہا ہے۔وہ پیچھے بیٹھا سن رہا ہے، علم میں بھی آ جائے تو خجالت نہیں ہوتی بلکہ انسان چونکہ اچھے رنگ میں ، نیک نیت سے بات کر رہا ہے اس کو شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔یہ تو کہ سکتا ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں مگر یہ بات واقعہ درست ہے اور اس چیز کا قطعی یقین کہ یہ بات اس وقت نیت میں گناہ نہیں ہوتا یا اس وقت وہ غیبت نہیں کر رہا ہوتا یہ بات درست ہے آسانی سے مل جاتا ہے۔ایسا شخص اپنے دفاع میں کچھ نہیں ایسی بات کہہ سکتا جو اس کے بیان کو غلط کہے اور چونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے تعلق مجھ سے درست ہیں اور نیست بگڑی ہوئی نہیں ہے اس لئے اس کے نتیجے میں نفرت اور دوری بھی پیدا نہیں ہوتی۔پس دو طرح سے غیبت کا احتمال ہے۔ایک ہے بدنیتی کے ساتھ حملہ کرنے کی خاطر ، جھوٹی بات کرنا ایک سچی بات کو بد نیتی سے دشمنی کے نتیجے میں پھیلانا۔جو جھوٹی بات ہے اس کے دو پہلو