خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 872 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 872

خطبات طاہر جلد 13 872 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء ہیں۔ایک فن ہے ظن کے پردے میں شک کا فائدہ اپنے لئے اٹھاتے ہوئے کہ شاید بیچ ہو اس لئے میں جھوٹ نہیں بول رہا۔یہ حصہ ہے جو غیبت سے زیادہ تعلق رکھتا ہے۔جو واضح جھوٹ بولا جارہا ہے اسے غیبت نہیں کہتے اس کا کچھ اور نام ہے۔آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، مسلم کتاب البر میں یہ درج ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے۔صحابہ رضوان اللہ یم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی کا اس کی پیٹھ کے پیچھے اس رنگ میں ذکر کرنا جسے وہ پسند نہیں کرتا۔عرض کیا گیا اگر وہ بات جو کہی گئی ہے سچ ہو اور میرے بھائی میں موجود ہو تب بھی یہ غیبت ہو گی۔آپ نے فرمایا اگر وہ عیب اس میں پایا جاتا ہے جس کا تم نے اس کی پیٹھ پیچھے ذکر کیا ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے اس میں پائی نہیں جاتی تو یہ بہتان ہے جو اس سے بڑا گناہ ہے۔بہتان تراشی معصوم پر تو ایسا سخت گناہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کی بہت سخت سزا مقرر فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔تو دونوں صورتوں میں جواز کوئی نہیں رہتا۔اگر سچ ہے تو غیبت ہے۔جھوٹ ہے تو بہتان ہے، اس سے بھی زیادہ بڑا گند۔اگر سچ ہے تو غیبت ہے ان معنوں میں کہ بھائی مر چکا اور مرے ہوئے بھائی کو ڈیفنس کا موقع نہیں دیا گیا۔اس کی عدم موجودگی میں اس پر حملہ کیا گیا گویا اس کا گوشت کھایا گیا اور اس کے مزے اڑائے گئے اور بہتان کا مطلب ہے کسی کو قتل کر دینا یعنی روحانی دنیا میں بہتان قتل کے مشابہ ہے۔تو یہ تو Murder کا گناہ ہے جو مرے ہوئے کے گوشت کھانے سے زیادہ مکروہ تو نہیں مگر زیادہ بڑا ظلم ضرور ہے اور زیادہ قابل مواخذہ ہے۔پس کوئی بھی بہانہ بنایا جائے اگر غیبت کرتے ہیں اور چسکا پڑتا ہے اس کے لطف اٹھائے جاتے ہیں اور اپنے کسی بھائی کو کم نظر سے دیکھا جا رہا ہے، اس کی ہنسی اڑائی جا رہی ہے، اس کو ذلیل کیا جارہا ہے اور ایسی باتیں کی جارہی ہیں کہ جب وہ آ جائے تو زبانیں گنگ ہو جائیں اور مجال نہیں کسی کی کہ وہ باتیں ان کے سامنے بیان کر سکے تو یہ ساری غیبت ہے۔غیبت میں تھوڑی اور کم اور زیادہ کے بہت فرق ہیں، بڑی منازل ہیں۔بعض دفعہ غیبت ہی ہوتی ہے مگر نیتوں میں چونکہ فتور نہیں ہوتا اس رنگ میں بات کی جاتی ہے کہ سننے والے سارے جس شخص کے متعلق بات ہو رہی ہے اس سے دور نہیں ہٹتے وہ بات سن کر بلکہ ان سب کا قدرتی طبعی اپنا