خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 870
خطبات طاہر جلد 13 870 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 نومبر 1994ء اتفاقاً نظر کے سامنے آجائے اور پھر اس نیت سے ان باتوں کو دوسروں کے سامنے بیان کیا جائے کہ جس کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے اس پر بیان کرنے والے کو ایک قسم کی فوقیت مل جائے کہ دیکھو میں اس بات سے بلند ہوں اور نیت یہ ہو دیکھو یہ آدمی کیسا ذلیل ہے اور گھٹیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا خوف بھی دامنگیر ہو کہ یہ بات اس شخص تک نہ پہنچ جائے۔یہ خوف دامن گیر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ وہ چھپ کر حملہ کرنا چاہتا ہے۔وہ جب موجود نہیں ہے پیچھے سے ایسا وار کرنا چاہتا ہے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سکے۔اگر یہ نیت ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی مثال دیتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے اَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۖ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔تم تو کراہت کرنے لگے ہو دیکھو دیکھو تم تو یہ بات سنتے ہی سخت کراہت محسوس کر رہے ہو۔اب کیسی کراہت جب کہ عملاً اپنی زندگی میں تم نے یہی وطیرہ اختیار کر رکھا ہے۔جب اپنے بھائی یا اپنی بہن یعنی مومن کے تعلقات کی بات ہو رہی ہے، سگے بھائی یا بہن کی بات نہیں، ان کے خلاف جب تم باتیں کرتے ہو تو مردے کا گوشت کھانے والی بات ہے لیکن کراہت کے ساتھ نہیں چسکے لے لے کر تو مثال تو ایک ہی ہے۔ایک جگہ تم چسکے لیتے ہو ایک جگہ کراہت محسوس کرتے ہو۔یہ تمہاری زندگی کا تضاد ہے جو درست نہیں ہے حالانکہ دونوں کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا چاہئے۔اس نصیحت اور اس مثال کے بعد پھر بھی انسان غیبت میں مزے اٹھاتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روحانی لحاظ سے بعض باتوں کی کراہت کو جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔وہ مثال سنتا ہے ایمان لے آتا ہے اللہ نے فرمایا ٹھیک ہی ہوگا لیکن جہاں تک وہ سوچتا ہے میری ذات کا تعلق ہے مجھے تو مزہ آ رہا ہے۔مجھے تو بھائی کے گوشت والی کراہت اس میں ذرا محسوس نہیں ہو رہی جس کا مطلب ہے اس کا تناظر بدل گیا ہے۔وہ جس پہلو ، جس زاویے سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے وہ خدا کا پہلو نہیں ہے، خدا کا زاویہ نہیں ہے۔پس بیماری محض گناہ کی بیماری نہیں ہے ایک گہرا رخنہ ہے مزاج میں اور ذوق میں اور اس کی اصلاح نسبتاً زیادہ مشکل ہوتی ہے۔اگر ایک انسان گناہ سمجھتے ہوئے اس کی بدیوں سے واقف ہوتے ہوئے وقتی طور پر گناہ کے بعض پہلوؤں سے متاثر ہو جائے جن میں کشش بھی پائی جاتی ہے تو ایسا شخص بار بار تو بہ کرتا ہے اور سنبھلتا ہے مگر غیبت کرنے والوں میں میں نے یہ چیز نہیں دیکھی۔