خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد 13 858 خطبه جمعه فرمودہ 11 نومبر 1994ء رَفَعَهُ الله۔(ابن ماجہ ) یہاں رفع کا مضمون بھی سمجھا دیا۔فرمایا کہ جوشخص جتنا گرتا ہے خدا کی خاطر اگر گرے، جتنا جھکتا ہے اگر خدا کی خاطر جھکے، تو اللہ تعالیٰ اس کے مرتبے بہت بلند فرماتا ہے۔ایک اور حدیث میں اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے۔اِذَا تَوَاضَعَ الْعَبْدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعِ فِي السّلْسِلَةِ يا فِي سِلْسِلَة - کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جو شخص عاجزی اختیار کرتا ہے ، گر جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ایک زنجیر سے باندھ کر ساتویں آسمان تک بلند کر دیتا ہے اور وہاں بھی لفظ رفع استعمال ہوا ہے تو سا تو میں آسمان کا تصور ایک ظاہری تصور ہے اور بندے کا زنجیر سے باندھے جانا بھی ظاہر کی طرف انسان کا ذہن لے جاتا ہے لیکن کوئی دنیا کا انسان یہ نہیں اس کا ترجمہ کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے جسم پر رسی لپیٹتا ہے، کوئی زنجیر باندھتا ہے اور اسے اٹھا کر آسمان پر لے جاتا ہے۔مگر عجیب بات ہے کہ جب حضرت عیسی کے متعلق لفظ رفع آ جائے تو وہاں سارے عقلی دستور ایک طرف رکھ دیئے جاتے ہیں اور وہاں ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ اللہ نے اسے باندھ کے جس طرح بھی سمجھا فرشتے بھیجے وہ پکڑ کے زبر دستی اٹھا کے کسی اور آسمان پر لے گئے تو چوتھے آسمان کی بات کرتے ہیں یہاں اس حدیث میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ساتویں آسمان کی بات کر رہے ہیں تو کیا کبھی کسی نے کوئی زنجیر اترتی دیکھی ہے جو کسی تواضع کرنے والے بندے سے لپیٹی گئی ہو۔سب سے زیادہ تواضع کرنے والا بندہ کون تھا؟ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کیونکہ آپ کا مرتبہ تو ساتویں آسمان سے بھی بلند تر تھا تب بھی ظاہری جسم کے لحاظ سے نہیں بلکہ روحانی مراتب کے لحاظ سے آپ کو ہمیشہ کے لئے سب دوسروں پر رفعت عطا کی گئی۔پس یہ وہ رفع ہے جس کا حل آنحضرت ﷺ نے فرما دیا اور تواضع کے ساتھ اس کو باندھا ہے۔خدا کو انکسار پسند ہے اس کے بندوں سے جو جھک کے ملتا ہے جس کو اپنی کوئی برتری اس کو اپنے آپ کو بڑا سمجھنے میں مجبور نہیں کرتی اور اس کے دماغ کو اس کی کوئی بڑائی نہیں چڑھتی ایسا شخص خدا کے ہاں عزت پاتا ہے۔اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں عزت پاتا ہے تو یہ مراد نہیں ہے کہ مرنے کے بعد پتہ چلے گا۔وہ عزت پاتا ہے اور پاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا بس نہیں کرتا جب تک کہ اس کی عزت کو کل عالم پہ روشن اور ظاہر نہ کر دے۔صرف تواضع کی حد فیصلہ کن ہوگی۔کیسا تواضع کرتا تھا ؟ کس اخلاص سے کرتا تھا ؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے تواضع کی تو کب خدا نے پیچھا چھوڑا ہے۔دنیا میں وہ عزت بڑھتی چلی جارہی ہے، پھیلتی چلی جارہی ہے ایک قوم