خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 859 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 859

خطبات طاہر جلد 13 859 خطبہ جمعہ فرموده 11 / نومبر 1994ء سے دوسری قوم میں داخل ہوتی چلی جارہی ہے اور اس کے بعد حضرت محمد رسول ﷺ کا جب وصال ہوا تھا تو کتنے لوگوں میں آپ کی رفعت ثابت ہوئی تھی لیکن پھر کوئی دن ایسا نہیں چڑھا جب کہ آپ کی صلى الله رفعت کا تصور بلند بھی نہیں ہوا اور پھر پھیلا بھی نہیں۔ہر دن چونکہ رسول اللہ ﷺ کی رفعت دائمی ، بلند تر ہونے والی ہے اس لئے وہ تصور اپنی ذات میں بھی بلند تر ہوتا چلا گیا اور وہ شہرت پھیلتی چلی گئی۔تو درجہ بدرجہ عام انسانوں سے بھی یہ سلوک کیا جاتا ہے اور بسلسلة سے میں ہمیشہ یہی معنی سمجھتا ہوں کہ زنجیر کا لفظ کہنے کی ضرورت کیا تھی؟ ضرورت یہ تھی کہ بتایا جائے کہ زنجیر کڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے بعضوں کے درجے زیادہ لمبی زنجیر سے طے کئے جائیں گے بعض کے چھوٹی زنجیر سے طے کئے جائیں گے۔یہ تو تمہارے اپنے اختیار میں ہے جتنی کڑیاں چاہو بناؤ اتنی کڑیوں کی زنجیر تمہارا رفع کرے گی۔اگر خدا کے حضور جھکنے اور انکساری میں تمہاری زیادہ اخلاص پایا جاتا ہے زیادہ قربانی کی روح پائی جاتی ہے زیادہ خدا کی محبت اور بنی نوع انسان کا وقار پیش نظر ہے اور انسان کی عزت بذات خود تم سے مطالبہ کرتی ہے کہ سب کو برابر سمجھو، ان کو مرتبہ دو۔کئی ایسے اور خیالات جتنے یہ محرکات بڑھتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی اس کام میں عظمت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور جتنے خلوص سے کوئی انسان یہ کام کرتا ہے اتنا ہی اس کی عزت بڑھتی چلی جاتی ہے۔پھر آزمائشوں کے وقت اور اس زنجیر کو خدا تعالیٰ لمبا فرما دیتا ہے عام حالات میں ایک ایثار کر رہا ہے قربانی کر رہا ہے وہ بھی اچھی چیز ہے لیکن جہاں ایثار کے نتیجے میں ذلیل ہوتا ہو، رسوا ہوتا ہو ، وہاں خدا کا خاص وعدہ آتا ہے کہ میں تمہیں ضرور بلند کروں گا۔پس ساتویں آسمان تک بھی لوگ اٹھائے جائیں گے لیکن وہی جن کی قربانیوں کی زنجیر بہت لمبی بنی ہوئی ہو اور اتنی وسعت رکھتی ہو کہ وہ ساتویں آسمان تک پہنچا سکے۔اور جہاں تک ان قربانیوں کا تعلق ہے یہ مطلب نہیں کہ ضرور ہی عظیم ہو تو تمہیں رفعت ملے گی۔حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو اگر چہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہی نیکی ہو۔(مسلم کتاب الادب ) اب یہ بھی بہت ہی گہرا مضمون ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا معمولی چندہ دے کر بھی اگر تم خدا کی محبت حاصل کر سکتے ہو تو معمولی ہی دو مگر دو ضرور۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ معمولی نیکی کو بھی حقیر نہ سمجھو اگر چہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے پیش آنے کی ہی نیکی ہو اور یہ معمولی نیکی جو ہے آنحضرت مے