خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 848 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 848

خطبات طاہر جلد 13 848 خطبہ جمعہ فرموده 11 / نومبر 1994ء کہہ کے بھی ہو سکتی تھی مگر چونکہ بہت سی جماعتوں میں اور بعض افراد بھی ان خطبات کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہاں ایک لفظ کی درستگی داخل کرنا ممکن نہیں رہتا اس لئے میں نے دوبارہ ان آیات کی تلاوت کر دی ہے تا کہ وہ من و عن وہاں سے پہلی تلاوت کو اٹھا کر اس تلاوت کو وہاں داخل کر دیا جائے ان لوگوں کے لئے جو اسے رکھنا چاہیں اور جو صرف سنتے ہیں ان کے لئے تو صرف ذکر کافی ہے کہ یہاں جَنَّةِ ہے قرآن کریم کی اصل قرآت اور سہوا اسے الْجَنَّةُ لکھا گیا۔(دراصل یہ جو تغابن‘ والی بات ہے یہ اور آیات ہیں کچھ وہ بھی جمعے کے لئے اسی کے لئے رکھی گئی تھیں اور یہ غلطی ہوگئی حوالہ بدل گیا ہے ورنہ تغابن کی آیات بھی مال سے تعلق رکھنے والی میں نے جمعے کے لئے منتخب کی تھیں) مگر آج جو دوسری آیت چنی ہے یہ سورہ الطلاق کی آٹھویں آیت ہے۔لِيُنْفِقُ ذُوْسَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهِ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تا کہ خرچ کرے ہر صاحب حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ اور وہ شخص بھی جس پر رزق تنگ کیا گیا ہے یعنی اسے نسبتا کم عطا ہوا ہے فَلْيُنْفِقُ مِمَّا الله الله اس کے مطابق خرچ کرے جتنا اسے اللہ نے دیا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا مَا أَنهَا اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی حیثیت اور توفیق سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور ما انتھا میں یہ فرما دیا کہ ہم نے ہی تو دیا ہے، ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔دینے والے ہاتھ کو پتا ہے کہ اس کو کیا دیا گیا ہے تو ہم جب تجھ سے دین کی خدمت میں خرچ کا تقاضا کرتے ہیں تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ جو تمہیں ہم نے دیا ہی نہیں اس میں سے وہ اپنی توفیق کے مطابق دو۔سَيَجْعَلُ اللهُ بَعْدَ عُسر يسرا اگر تنگ دست بھی ہو تب بھی دو کیونکہ تنگی کا علاج خدا کی راہ میں خرچ سے ہاتھ روکنا نہیں بلکہ خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہی تنگ دستی کا علاج ہے۔فرمایا سَيَجْعَلُ اللهُ بَعْدَ عُسْرِ تیسرا اللہ تعالی تنگی کے بعد آسائش میں تمہارے حالات کو تبدیل فرما دے گا۔پس وہاں جو یہ تھا کہ ”صل “ کا مضمون چل رہا تھا کہ تھوڑا بھی ہو تو وہ دیتے ہیں یہ تو وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ دل اور ذہن کی وسعت عطا ہوئی ہے اور اعلی ذوق عطا کیا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں ہر حال میں خرچ کرنا ہے زیادہ ہو تب بھی کرنا ہے کم ہوتب بھی کرنا ہے اور ان کا کم بھی خدا کے ہاں زیادہ لکھا جاتا ہے۔یہاں ایسے لوگ مخاطب معلوم ہوتے ہیں جن کے دل میں اپنی