خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد 13 816 ہیں اپنے بچے کا سر دیوار سے ٹکڑا کے پھوڑ دیتے ہیں۔یہاں انگلستان میں ایک پروگرام میں میں نے دیکھا کرائمز کے متعلق کہ بہت سے شرابی ہیں جو بہت حساس ہو جاتے ہیں وہ گھر واپس آتے ہیں بیوی ان سے شکوہ کرتی ہے کہ کیوں دیر سے آئے ہیں غصہ آتا ہے اور غصے کی حالت میں خود اپنی بیویوں کے سر دیوار سے ٹکڑا ٹکڑا کر ان کو قتل کر دیتے ہیں۔تو غصے کی حالت میں انسان پاگل ہو جاتا ہے اور غصہ حد سے تجاوز کی طرف لے کے جاتا ہے پس جب حد سے تجاوز ہو تو انسان کا اپنے ذہن پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا اس لئے غصے کو جنون کہا جاتا ہے مگر خواہ کیسا ہی جنون ہوا گر وہ سامنے کھڑا ہو جس سے آپ خوف کرتے ہیں، جس کا خوف رکھتے ہیں، جسے مقتدر سمجھتے ہیں، جانتے ہیں کہ وہ اس کی سزا دے سکتا ہے تو اچانک وہ غصہ بیٹھ جائے گا۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے ایمان کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے غصے میں حد اعتدال پر قائم رہنا۔خوشی کا بھی یہی حال ہے خوشی کی حالت میں انسان ہزار پاگلوں والی حرکتیں کر بیٹھتا ہے لیکن اگر ایک مالک اور مقتدر سامنے کھڑا ہو جس نے بعض دائرے کھینچ رکھے ہوں کہ ان دائروں سے آگے نہیں بڑھنا تو خوشی کے وقت بھی وہی تجاوز سے بچنے کا طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھے اور اس پر کامل ایمان رکھے۔تیسری بات فرمایا کہ جب اقتدار ملتا ہے تو اس کے باوجود وہ دوسرے کے حق پر نظر نہیں ڈالتا اور ذرہ بھر بھی اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتا۔اس میں بھی یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو تو اس کا ایک لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا کو مالک سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو مالک نہیں سمجھتا خدا پر ایمان اس کے کامل طور پر مالک ہونے کے تصور کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جسے انسان اپنا حق سمجھتا ہے اور وہ اتنا ہی ہے جتنامالک نے دیا ہوا ہے اس سے زیادہ نہیں ہے۔پس یہ اتفاق ہے کہ وہ عارضی طور پر دنیا میں قادر بنایا گیا ہے یا مقتدر بنا دیا گیا ہے ایک بادشاہ قانون پر فائز ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ اپنی مرضی کے قوانین بھی بناتا ہے حالانکہ اس کو اس کا حق نہیں ہوتا اور قانون ہو یا نہ ہو جو ظالم بادشاہ ہیں یا ڈکٹیٹر ہیں وہ عوام کے حق سے چھین کر ان کے پیسے کو اپنی ذات یا اپنے خاندان کے لئے استعمال کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت نہیں دی ہوئی۔تو چونکہ وہ اپنے آپ کو مالک سمجھنے لگتے ہیں اس لئے یہ حرکت سرزد ہوتی ہے ورنہ ناممکن ہے کہ ہو۔مالک کوئی اور ہو اور طاقت والا بھی ہو تو کسی کی