خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 817
خطبات طاہر جلد 13 817 خطبه جمعه فرمود و 28 اکتوبر 1994ء مجال ہے کہ اس سے مال میں سے کچھ لے۔تو بنی نوع انسان کا مال اسے خدا کا مال دکھائی دیتا ہے اور جب دوسرے کا مال خدا کا مال دکھائی دے تو پھر جرات نہیں ہوسکتی کہ اس پر انسان ہاتھ ڈالے۔تو یہ شخص تین حالتوں میں آزمایا جاتا ہے اور تین حالتیں اس کے ایمان کے حق میں گواہ بنتی ہیں یا اس کے ایمان کے خلاف گواہی دیتی ہیں۔غصے کی حالت، خوشی کی حالت اور اقتدار کی حالت۔جب آپ کے سپر د کوئی حکومت کی جائے یا کسی تھوڑے دائرے میں انتظام سپر د کیا جائے تو آپ کے اندر کوئی ایک ذرا بھی ایسی فخر کی حالت پیدا نہیں ہوتی کہ اس کے نتیجے میں آپ کوئی غلط قدم اٹھا سکیں۔یہ بہت ہی اہم نصیحت ہے اسے جماعت احمد یہ فطرت ثانیہ کی طرح اپنی عادت اور اپنے رگوں میں دوڑتے ہوئے جذبے کی طرح داخل کر لے تو بہت بڑے مسائل سے ہمیں نجات مل سکتی ہے۔روز مرہ کے جھگڑوں میں زیادتیاں ، بدکلامیاں، خواہ وہ خاندانی سطح پر ہوں، ساس بہو کی باتیں ہوں یا خاوند اور بیوی کے تعلقات کے بگاڑ کے قصے ہوں ہر جگہ آپ دیکھیں گے اور اسی طرح دوستوں کے معاملات میں بھی کہ غصے کی حالت میں سارا امن کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور خوشی کی حالت میں انسان بے راہروی اختیار کرتا ہے جب اسے کچھ زیادہ نصیب ہو جائے تو اپنے خرچ کو متوازن نہیں رکھتا۔بعض دفعہ خوشی کی حالت میں وہ قرضے لے لے کر بھی ، دکھاوے کی خاطر کہ خوشی کا دن ہے اپنے اوپر بہت سے بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور وہ قرض واپس کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔پس ساری عمر کا ایک عذاب ہے جو انہوں نے اپنے سر منڈھ لیا ہے پس اس کو روز مرہ کی زندگی پر چسپاں کر کے دیکھیں تو ہر روز یہ تین چیزیں ہمارے لئے آزمائش بنتی ہیں اور بسا اوقات ہم ان سے شکست کھا جاتے ہیں اور اس آزمائش پر پورے نہیں اترتے۔اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو راضی ہوا اس کا بیان کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ابتلی کیا اسے آزمایا اور ہر بار اس آزمائش پر وہ ہمیشہ پورا اترا۔پس یہ آزمائشیں کوئی ایسی آزمائشیں نہیں ہیں جو دور کی خیالی دنیا کی باتوں سے تعلق رکھتی ہوں۔یہ روز مرہ کی آزمائشیں ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے ہر حال میں آزمائش پر پورا اترتے دیکھا۔باقی انبیاء بھی اپنے اپنے مقام اور توفیق کے مطابق پورا اترے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم کے حق میں جو یہ گواہی ملی تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں ایک غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ہر آزمائش کے وقت وہ سوچتے تھے اور غور کرتے تھے کہ کس میں خدا کی رضا ہے کس میں