خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 815
خطبات طاہر جلد 13 815 خطبه جمعه فرمودہ 28 اکتوبر 1994ء حاضر ہو جائے تو خدا تعالیٰ جو غائب بھی ہے اور حاضر بھی ہے وہ یہ معنی بھی رکھتا ہے کہ بہت سی دنیا ہے جن کی نظر سے خدا ہمیشہ غائب ہی رہتا ہے اور بہت سے ایسے مومن ہیں کہ اس غائب کو بھی حاضر کی طرح دیکھنے لگتے ہیں پس جو حاضر ہو جائے اس کی موجودگی میں انسان کا طرز عمل ایک خاص رنگ اختیار کر لیتا ہے۔جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے حاضر ہوں تو اس وقت قانون شکنی کرنے والا کوئی بہت ہی ڈھیٹ اور بے حیا ہوگا جو دیکھتے ہوئے کہ مجھ پر سب کی نظریں ہیں پھر بھی وہ قانون شکنی کرے۔ایسے شخص بعض دفعہ ڈاکو ہوتے ہیں بعض دفعہ اور جابر اور ظالم ہوتے ہیں وہ کچھ عرصے تک ایسی بے حیائیاں کرتے رہتے ہیں پھر آخر پکڑے جاتے ہیں مگر اللہ کے معاملے میں تو جرات کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔اگر خدا کو انسان حاضر سمجھ لے تو پھر اس کے نتیجے میں مستقلاً انسان کے مزاج اور طبیعت میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہونی لازم ہیں کہ جب وہ غصے میں آپے سے باہر ہو رہا ہو جو یہ دیکھ رہا ہے کہ مجھے دیکھ رہا ہے۔اب آپ دیکھ لیں کہ اگر غصے کی حالت میں آپ کوئی بے ہودہ بات کر رہے ہیں اور کوئی ایسا شخص آ جاتا ہے جس کے سامنے آپ کو بے ہودہ باتوں میں شرم آتی ہے تو فوراً اپنی زبان کو آپ کنٹرول میں کرتے ہیں کسی اور کے بچے پر مثلا ہاتھ اٹھا بیٹھیں اور اس کے ماں باپ سامنے سے آتے دکھائی دیں تو مجال ہے کہ وہ ہاتھ گرے وہ فورا واپس ہو جائے گا اور شرمندگی کے ساتھ واپس ہوگا۔تو دیکھنے والا ایسا ہے جس کے اوپر یہ مثال صادق آ رہی ہے۔آپ اس کو دیکھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کی مخلوق ہے اور وہ ماں باپ سے زیادہ ان سے پیار کرنے والا ہے ان کا حق مارنے والے کو کس نظر سے دیکھے گا۔پس غصہ خواہ کیسے ہی تقاضے کرتا ہوا ایک مومن وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے ہاتھ روکے رکھتا ہے اور اس حد سے آگے نہیں بڑھتا جس حد سے آگے خدا کا حکم ہے کہ نہ بڑھا جائے اور دنیا میں اکثر فساد جو انفرادی تعلقات کے دائرے میں آتے ہیں غصے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔بہت سے دوست عمر بھر کی دوستی کو غصے کے ایک لمحے میں ہمیشہ کے لئے ضائع کر بیٹھتے ہیں اور غصے کی حالت میں بعض دفعہ ایک انسان ایسے بہیمانہ جرم میں مبتلا ہو جاتا ہے جس سے پہلے اس کے بغیر وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔یعنی غصے کی حالت کے بغیر وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس سے ایسا جرم ہوسکتا ہے لیکن غصے کی حالت میں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ جیسا کہ امریکہ میں خصوصا نیو یارک میں بارہا ایسے واقعات سامنے آئے