خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 814 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 814

خطبات طاہر جلد 13 814 خطبه جمعه فرموده 28 اکتوبر 1994ء اخلاق جن پر حضرت اقدس محمد مصفی یا یہ ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں، ان اخلاق کو اپنائیں گے تو اس کا نام اخلاق حسنہ کو اپنانا ہے ورنہ دنیاوی اخلاق تو محض کھو کھلے اور سطحی ہوا کرتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تین اخلاق ایمان کا تقاضا ہیں یعنی تین اخلاق ایسے ہیں کہ جو ہر مومن کے لئے اپنانے لازم ہیں جن کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔پس جب آپ مومن بنتے ہیں ایمان لے آتے ہیں تو لازم ہے کہ وہ تین ایمان کی علامتیں آپ کی ذات میں ظاہر ہوں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ غصہ آئے تو اس کے باوجود وہ غصہ مومن کو باطل کام میں اور گناہ میں ملوث نہیں کرسکتا۔جہاں خدا کی اجازت کی حدود دکھائی دے رہی ہیں وہاں تک رہتا ہے اور اس کا غصہ اسے ان حدود سے تجاوز کرنے پر کبھی آمادہ نہیں کر سکتا۔جانتا ہے کہ اس غصے کے اظہار کے وقت اگر میں نے اس حد سے آگے قدم بڑھایا تو اللہ کی رضا سے باہر چلا جاؤں گا اور جھوٹ اور بے ہودہ باتوں پر بھی غصہ اس کو آمادہ نہیں کر سکتا۔پھر فرمایا اور وہی مومن شخص جو غصے میں اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے، وہ جب خوش ہو تو اس کی خوشی بھی اس کو حق کی حدود سے باہر نہیں پھینکتی۔پس دوا ہم انسانی جذبات ایسے ہیں جو حد سے تجاوز کرنے پر انسان کو آمادہ کرتے ہیں ایک غصہ اور ایک خوشی اور انسانی زندگی کی بہت سی بے ہودہ حرکتیں اور باطل عادات در ظلم و ستم کی واردات زیادہ تر انہی دو حالتوں میں سرزد ہوتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ایک سچا ایمان لانے والا غصے میں حد سے نہیں بڑھتا اور حد سے تجاوز کر کے کسی پر ظلم نہیں کرتا ، یہ مفہوم ہے اور خوشی میں حد سے تجاوز کر کے اپنی ذات پر ظلم نہیں کرتا۔خوشی کے ظلم اکثر اپنی ذات پر ہوتے ہیں اور اور غصے کے ظلم اکثر دوسروں پر ہوتے ہیں اگر چہ نتیجے تو دونوں ہی اپنی ذات کے خلاف ہیں۔پھر فرمایا اور جب اسے قدرت اور اقتدار ملتا ہے تو اس وقت وہ اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتا۔طاقت ہوتے ہوئے بھی، اس بات کی استطاعت کے باوجود کہ جتنا چاہے لے لے، جب اس کا حق ختم ہوتا ہے وہیں ٹھہر جاتا ہے اور ہاتھ آگے نہیں بڑھتا(المعجم الصغیر للطبرانی باب من اسمه احمد )۔یہ تین بہت ہی گہری خوبیاں ہیں جن کو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ایمان سے وابستہ فرمایا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایمان سے ان کا کیا تعلق ہے؟ ہمارا ایمان بالغیب ہے اور اللہ کی ذات پر ایسا یقین ہے باوجود اس کے کہ ہمیں وہ دکھائی نہیں دے رہی ، ایسا کامل یقین ہے جیسے وہ