خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 793
خطبات طاہر جلد 13 793 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /اکتوبر 1994ء اسلام میں داخل ہوئے ہیں وہ بھی اپنا بہت شاندار ماضی ضرور رکھتے ہیں کیونکہ بہت سے افریقن احمدی اور بعض ان میں سفید فام احمدی بھی ہیں انہوں نے خود اسلام قبول نہیں کیا ان کے آباؤ اجداد نے قبول کیا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے قربانیاں بھی دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت معجزے بھی دیکھے۔چنانچہ ان بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھنا اور بار بار یاد دلاتے رہنا یہ کام ایک منظم کوشش کو چاہتا ہے اس پہلو سے یہاں کے جو رسائل ہیں ان میں یہ ذکر خیر جاری رہنا چاہئے اور آئندہ نسلوں کو ان کے آباؤ اجداد کی باتیں بتاتے رہنا چاہئے کہ انہوں نے کس قیمت پر احمدیت حاصل کی تھی اور کیسی کیسی قربانیاں اس راہ میں دی تھیں۔بہت سے ایسے خاندان میری نظر میں ہیں جن میں یہ کمزوریاں واقع ہوئی ہیں لیکن ان کے آباؤ اجداد نے بہت عظیم الشان قربانیاں دین کو حاصل کر کے اس کو قائم رکھنے کے لئے دیں اور تمام عمر وہ یہ قربانیاں پیش کرتے رہے۔ان کی روحوں کو اگر طمانیت پہنچانی ہے، اگر ان سے محبت ہے، ان کے احسانات کا حق ادا کرنا ہے تو سب سے اعلیٰ طریق یہ ہے کہ انہی کی قدروں کو اپنی ذات میں زندہ رکھیں۔ایک نسل جو آ کر گزرجاتی ہے وہ کبھی نہیں مرتی اگر ان کی خوبیاں اگلی نسل میں زندہ رکھی جائیں اور ان کی حفاظت کی جائے۔مرتے وہ لوگ ہیں جن کی قدریں ان کے ساتھ مر جاتی ہیں اور قدروں کے ساتھ ہی عزتیں وابستہ ہوتی ہیں۔قدروں کے ساتھ ہی محبتیں وابستہ ہوتی ہیں۔اگر ایک انسان غریب ماں باپ کا بیٹا ہو اور ترقی کر جائے اور ماں باپ کی قدریں کھو بیٹھا ہو تو وہ ماں باپ اس پر بوجھ بن جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ان کے ساتھ میرا میل جول ، لوگوں کا دیکھنا کہ میرے ماں باپ کس زمانے کے لوگ ہیں، کیسا رہن سہن ہے، میرے لئے شرمندگی کا موجب ہو گا کیونکہ ان کی نظر میں دنیا کی قدریں بچ جاتی ہیں اور ماں باپ کے اعلیٰ اخلاق اور ان کے روحانی مقامات ان کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔وہ جن کی نظر میں یہ حقیقت رکھتے ہیں ان کو دنیا کی نظروں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان قدروں سے وابستہ ہوتے ہیں۔وہ بڑی عزت اور محبت اور احترام سے ان لوگوں کو ، اپنے بزرگوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کی عزت کی وجہ سے دنیا بھی ان کا بہت احترام کرتی ہے۔ان کی غربت اور سادگی دنیا کو انہیں چھوٹا نہیں دکھاتی بلکہ اور بڑا کر کے دکھاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عظمت نہ کپڑوں سے وابستہ ہے، نہ دولت سے وابستہ ہے، اعلیٰ اقدار ہی سے وابستہ ہے اور اہل نظر پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کون سی باتیں قدر کے لائق ہیں۔