خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 792 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 792

خطبات طاہر جلد 13 792 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء کی طرز سے بالکل ظاہر ہوتی تھی۔تو ایسے موقعوں پر میں کوشش تو کرتا ہوں کہ ان سے ذاتی تعلق قائم ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی آنکھوں میں بسا اوقات ملاقات کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ہی پاک تبدیلیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔مگر یہ چند لھوں کا کام نہیں اس کے لئے لمبی محنت کی ضرورت ہے، حکمت کی ضرورت ہے۔وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے پیار ہی نہیں عزت کا سلوک بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی نظم و ضبط کو بھی قائم رکھتے ہیں وہی ہیں جو کامیاب ہیں اور جن کے متعلق کسی حد تک اطمینان سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ آئندہ اچھی نسل آگے بھیجیں گے اور اطمینان کے ساتھ خدا کے حضور لوٹیں گے کہ ہماری نسلیں بھی انہی قدروں پر قائم ہیں جو قدریں ہم نے اپنے آبا ؤ اجداد سے ورثے میں پائی تھیں۔پس اس پہلو سے جو ، اب زیادہ قابل فکر پہلو ہے کہ جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور بہت بڑی تعداد ایسوں کی ہے جن کے اقتصادی معیار پہلے بہت چھوٹے تھے اور یہاں آکر دنیا داری کے اثرات ان کے چہروں پر دکھائی دینے لگے ہیں۔بچوں ہی میں نہیں ، بعض دفعہ بڑوں میں بھی میں نے دیکھا بعض خواتین آئی ہیں جو ساری عمر ربوہ میں پلنے والی ، وہاں پردوں کی پابند اور حیادار، یہاں آتے ہی ان کو پردے سے حیا ہو گئی ہے بجائے غیروں سے حیا کے اور برقعہ معلوم ہوتا تھا وقتی طور پر مجھے دکھانے کے لئے استعمال ہوا ہے اور جب باہر موقع ملا جانے کا برقع اتارا اور بغل میں دبایا اور پھر اسی دنیا میں واپس لوٹ گئیں جہاں سے عارضی طور پر چھٹی لے کر ملنے آئی تھیں۔یہ نظارے بہت ہی تکلیف دہ ہیں۔میں ان لوگوں کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔غریبانہ زندگی مگر بہت ہی اخلاص تھا اور اخلاص کے نتیجے میں وہ روحانی طور پر بہت امیر لوگ تھے۔تو جو دولت رکھنے کے لائق تھی وہ تو پھینک دی اور جو بے اعتنائی کے لائق تھی اس کے غلام بن گئے یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہے۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت امریکہ کو با قاعدہ منصوبہ بنا کر مزید اصلاح کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ان لوگوں کو اپنے آباؤ اجداد کی یادیں زندہ رکھنے میں مدددینی چاہئے۔یہ ایک بہت ہی اہم کام ہے جس کی طرف میں نے ایک دفعہ افریقہ کے دورے میں توجہ دلائی تھی اور بعض ملکوں نے اس پر عمل درآمد بھی کیا اور بہت فائدہ پہنچا۔ہم میں سے وہ لوگ جو پاکستان سے یہاں آباد ہوئے ہیں وہ بھی اور وہ لوگ جو یہاں