خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 794
خطبات طاہر جلد 13 794 خطبه جمعه فرموده 21 اکتوبر 1994ء اس لئے بعض دفعہ بعض احمدی خاندان بے وجہ خوبیوں سے شرمندہ ہوتے پھرتے ہیں اور بدیوں کو اعزاز سمجھتے ہیں جبکہ دنیا والے جانتے ہیں کہ خوبیاں ہی قابل قدر ہیں اور قابل احترام ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں جب باہر سے بعض معززین آیا کرتے تھے یعنی دنیا کے لحاظ سے بڑے لوگ، وہ مطالعہ کے لئے آتے تھے ، سب سے زیادہ وہ قادیان کی سادگی اور غریبانہ زندگی سے متأثر ہوتے تھے اور حقیقت میں کبھی اگر گودڑیوں میں لعل دکھائی دیتے تھے تو قادیان کا وہ زمانہ تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ان گلیوں میں پھرتے اور پرانی اقدار کا نور لئے پھرتے تھے جس سے وہ گلیاں روشن دکھائی دیتی تھیں۔وہ عجیب زمانہ تھا۔میں نے بارہا دیکھا ہے کہ باہر سے آنے والے ایک رات بعض دفعہ گزار کر جاتے تھے ان کی کایا پلٹ جاتی تھی۔ایک دفعہ میرے گورنمنٹ کالج کے ایک دوست جو میرے ساتھ وہاں رہتے تھے جماعت میں اگر کوئی دلچسپی تھی تو میری وجہ سے ایک تعلق تھا مگر دل میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں پیدا ہوئی کہ گویا وہ جماعت کی بحیثیت جماعت قدر کریں اور عزت کریں۔وہ سمجھتے تھے ایک شخص ہے بس اس سے تعلق ہے۔ایک دفعہ ان کو میں نے قادیان بلایا اور غالبا ایک دورا تیں ٹھہرے ہیں وہاں اور جاتی دفعہ ان کی آنکھوں میں آنسو۔کہتے تھے مجھے تو دنیا میں جنت کا آج پتا لگا ہے کیا ہوتی ہے اور وہ غریب لوگ تھے جو بسنے والے، وہاں کوئی شان و شوکت نہیں تھی یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ قادیان میں گنتی کی دو یا چار کاریں ہوں گی اور وہ بھی جب نکلتی تھیں تو احتیاط سے چلا کرتی تھیں کہ لوگوں پر گرد نہ پڑے۔سڑکیں بھی ٹوٹی پھوٹی ، گڑھوں والی اور غریبانہ زندگی لیکن عظمت کر دار نمایاں تھی اور وہ گلیاں دن کو بھی روشن رہتی تھیں، رات کو بھی روشن رہتی تھیں اور ان میں کبھی کوئی جھجک پیدا نہیں ہوئی دنیا کے سامنے۔بڑی عزت سے سراٹھا کر چلتے تھے اور جانتے تھے کہ یہی قدریں ہیں جو تحسین کے لائق ہیں باقی دنیا بے چاری محروم ہے۔وہ تکبر سے عاری تھے، باقی دنیا کو حقارت سے نہیں دیکھا کرتے تھے عزت سے ملتے تھے، جھک کر ملتے تھے مگر ان سے متاثر ہو کر نہیں، اپنی اعلیٰ قدروں کی وجہ سے، جنہوں نے انہیں انکسار بھی سکھایا اور بتایا کہ یہ اعلیٰ قدریں تکبر پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ انکسار پیدا کرنے کے لئے ہیں۔پس اسلامی قدریں ایک ایسی اعلیٰ دولت ہے جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ