خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 777
خطبات طاہر جلد 13 777 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1994ء یہاں جو کمی مجھے محسوس ہوئی ہے۔یہ انتظام تو ہو گیا لیکن یہ انتظامیہ نہیں ہے جو اس کام کو سنبھالے، یہ تو ویسی ہی بات ہے کہ ٤ مسجد تو بنادی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے (کلیات اقبال) لیکن نمازی میسر نہیں آئے۔تو میں اس مسجد کی بات نہیں کر رہا اس کو تو اللہ اتنے نمازی دے گا کہ دیکھتے دیکھتے چھوٹی ہو جائے گی۔میں کام کرنے والے جو ٹیلی ویژن پر کام کرنے والے ہیں ان کی بات کر رہا ہوں کہ اس کی بہت ضرورت ہے روزانہ تین گھنٹے تو یہاں ایسے ماہر بیٹھنے چاہئیں بعض کو تو ہم نے یہ ٹرینگ دلوائی ہے مگر وہ مستقل وقت نہیں دے سکتے کچھ عرصہ وہ ساتھ کام کریں گے اور آپ کے نو جوانوں کو مسلسل اپنا وقت وقف کرنا ہو گا اور اس کے لئے جتنی جلدی کریں اتنا ہی کم ہے کیونکہ آج سے پروگرام شروع ہو چکا ہے۔کل میں نے امیر صاحب یونائیٹڈ سٹیٹس کی امارت میں ایک کمیٹی کو ان باتوں پر غور کرنے کے لئے ہدایت کی تھی اس میں امیر صاحب کینیڈا بھی شامل تھے کچھ اور جو کام میں شامل رہے ہیں وہ بھی ساتھ تھے تو مجھے امید ہے انہوں نے جس طرح ہدایت دی گئی تھی اس قسم کا ڈھانچہ تیار کر لیا ہو گا لیکن جو جو ہمیں ضرورتیں ہیں وہ میں تمام جماعت کے علم میں لانا چاہتا ہوں تا کہ اس کے مطابق دوست اپنے آپ کو پیش کریں۔پہلی ایک بات یہ ہے کہ جتنے بھی اہم پروگرام مرکز میں پہلے سے دکھائے جاچکے ہیں اور اس میں دنیا کا ایک بڑا حصہ شریک ہو چکا ہے ان کی وڈیو یہاں پہنچنی ضروری ہے۔اس سلسلے میں یہ ابتدائی ہدایت میں نے جسوال برادران کو کی تھی مجھے امید ہے کہ اس کے مطابق وہ کافی تعداد میں وڈیوز ساتھ لے آئے ہوں گے۔ان وڈیوز کو دیکھنا ضروری ہے ان سب کو Pal System سے N۔T۔S۔C۔System میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور اس کے مطابق پروگرامنگ کرنی ہے اور حسب حالات بعض چیزیں چھوڑنی پڑیں گی ، بعض چیزیں داخل کرنی پڑیں گی اور پھر پروگرام اتنے لمبے عرصے کے لئے بنانے ہوں گے کہ پندرہ دن کا شیڈول، پروگرام آپ دیکھنے والوں کو پہلے بتا سکیں۔اس کے علاوہ مقامی طور پر پروگرام تیار کرنے ہیں ان کے لئے بھی بڑی محنت کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ کا ایک اپنا مزاج ہے، امریکہ کا ایک اپنا زبان کا تلفظ ہے،اس میں جب وہ بات سنتے ہیں تو ان پر اور اثر پڑتا ہے اور نئے پروگرام بنانے میں بہت ہی ذمہ داری کے ساتھ انتخاب کرنا پڑتا ہے کون اس کا اہل ہے اور کون نہیں ہے۔پھر جتنے پروگرام بنتے