خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد 13 759 خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1994ء انسان غصے کے وقت قابو نہ پاسکے۔آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں جو نصیحت فرمائی ہے تفصیلی ہدایت دی ہے وہ یہ ہے کہ غصہ آئے تو ایک گھونٹ پانی کا بھر لیا کرو اس سے کچھ تھوڑی سے ٹھنڈ پڑتی ہے۔پھر فرمایا کہ اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جایا کرو کیونکہ غصے کے نتیجے میں انسانی مزاج اچھلتا ہے اور بیٹھا ہوا آدمی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور یہ اس کے برعکس صورت ہے۔کھڑے ہوئے کو بٹھائے تو غصہ بھی ساتھ جھاگ کی طرح بیٹھتا ہے اور اگر بیٹھے ہوئے ہو تو لیٹ جاؤ۔لیکن غصے پر قابو پانا ہے ورنہ غصے کی حالت میں انسان ایک دفعہ مغلوب ہو جائے تو پھر اس سے دیوانوں کی طرح بعض حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جس پر وہ ہمیشہ پچھتاتا ہے اور پھر بھی کچھ نہیں کر سکتا۔پس آپ نے فرمایا کہ پہلوان تو وہ ہے کہ جب غصہ اس پر قبضہ کر رہا ہو اس وقت وہ غصے کو پچھاڑ دے بجائے اس کے کہ کسی اور کو گرا دے۔اب ترمذی سے ایک حدیث لی گئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی سے جھگڑے کی طرح نہ ڈالو اور نہ اس سے بیہودہ تحقیر آمیز مذاق کرو اور نہ اس سے ایسا وعدہ کرو جسے پورا نہ کر سکو یعنی جھوٹے وعدے نہ کیا کرو۔(ترمذی) اس میں پہلی بات یہ فرمائی بھائی سے جھگڑے کی طرح نہ ڈالو۔تو ہر وہ شخص جو ایسی بات کرتا ہے جس کے نتیجے میں جھگڑا پیدا ہوتا ہے وہ طرح ڈالنے والا ہے۔پھر اگلا شخص اگر ضبط نہ کر سکے تو معاملہ لمبا ہو جاتا ہے پھر بعض دفعہ دونوں طرف سے زیادتیاں شروع ہو جاتی ہیں۔تو برائی کا آغاز کرنے والا بہت زیادہ ذمہ دار ہے۔اور وہ طرح کس طرح ڈالی جاتی ہے اس کے متعلق آگے میں بعض احادیث آپ کے سامنے رکھوں گا اس سے تفصیلی طور پر آپ متنبہ رہیں گے کہ کیا کیا باتیں ہمیں نہیں کرنی چاہئیں اور کیا کیا باتیں کرنی چاہئیں جن کے نتیجے میں جھگڑوں کا قلع قمع ہو سکے۔ایک دو باتیں آپ نے خود اس میں بیان فرما دی ہیں۔فرمایا بے ہودہ تحقیرآمیز مذاق نہ کیا کرو اور یہ وہ بیماری ہے جو انسانوں میں کثرت سے ملتی ہے خصوصیت سے انفرادی سطح پر مشرقی قوموں میں اور وہ علاقہ جس کا نام ہندوستان ہے یعنی جس میں ہندو پاکستان دونوں شامل ہیں اس علاقے میں تو یہ بیماری بہت کثرت سے ملتی ہے اور مغربی قوموں میں قومیت کے حساب سے جس کو آپ ریس ازم کہتے ہیں اس کے مادے کے طور پر دکھائی دیتی ہے۔اگر چہ باشعور لوگ مغربی قوموں میں اس کے خلاف جدو جہد کر رہے ہیں لیکن ان کو خود خطرے دکھائی دے رہے ہیں کہ بدلتے ہوئے سیاسی