خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 760
خطبات طاہر جلد 13 760 خطبہ جمعہ فرموده 7/اکتوبر 1994ء حالات میں بعید نہیں کہ ریس ازم دوبارہ سر اٹھا لے اور دوبارہ کئی قسم کے فتنے پیدا کر سکے۔بہر حال قومی تحقیر ہو یا انفرادی تحقیر یہ دونوں باتیں مہلک ہیں اور ان کے نتیجے میں لازما جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔پس فرمایا کہ جھگڑے کی طرح نہ ڈالو اور اس کی بنیادی وجہ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جھگڑوں کا آغاز بسا اوقات تحقیر سے ہوتا ہے۔اس سے پہلے میں حدیث یہ پیش کر چکا ہوں کہ آنحضرت نے فرمایا کہ نیچے دیکھا کرو او پر نہ دیکھو جو شخص نیچے تحقیر سے دیکھتا ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہے کہ اوپر نہ دیکھے۔وہ اوپر حسد سے ضرور دیکھتا ہے۔اس لئے بات میں دوبارہ کھول رہا ہوں۔مراد اس سے یہ ہے کہ نیچے دیکھو محبت اور شفقت سے دیکھو اور اگر ایسا نہیں کرو گے اور تحقیر سے دیکھو گے تو جھگڑوں کی بنیاد ڈالنے والے ہو گے۔پس انفرادی طور پر ہم نے دیکھا ہے مجالس میں بعض لوگوں کو عادت ہے کسی شخص میں بے چارے میں کوئی نقص ہے، کوئی گنگنی آواز سے بولتا ہے یا اور کوئی جسمانی نقص پیدا ہو گیا ہے تو کئی لوگ اس کے نام رکھتے ہیں اس کو چھیڑتے ہیں اور اس طرح تنگ کرتے ہیں۔ایسا شخص دل میں کڑھتارہتا ہے اگر وہ غریب اور مجبور ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن دل میں انتقام کا جذ بہ ضرور پیدا ہوتا ہے۔اگر یہ جذبے پلیس اور سوسائٹی میں زیادہ ہو جائیں، بعض دفعہ ایک دفعہ کمزور آدمی بھی پھر اٹھ کے انتقام کی سوچتا ہے، اگر چھرا ہاتھ میں آتا ہے تو چھرا لے کر حملہ آور ہو جاتا ہے۔کئی ایسے واقعات جھگڑوں کی صورت میں میرے سامنے آئے ہیں یا محض اس سے آغاز ہوا کہ کسی کو چھیڑا ہے اور بار بار اتنا چھیڑا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں وہ شخص اپنے او پر قابو نہیں رکھ سکا۔پس آنحضرت ﷺ کی نصائح میں بہت گہری حکمتیں ہیں اور تمام معاشرے کے آزاران نصائح پر عمل کرنے سے دور ہو سکتے ہیں۔فرمایا بے ہودہ مذاق تحقیر آمیز مذاق بالکل نہ کیا کرو۔اپنے بھائی سے، یہ بد تمیزی ہے ناشکری ہے اللہ تعالیٰ کی اور تمہارے اپنے اندر تمہارے تعلقات میں میز ہر گھولنے والی بات ہے۔پھر فرمایا کسی سے ایسا وعدہ نہ کرو جسے پورا نہ کر سکو۔اب یہ ایک ایسی بات ہے جس کے نتیجے میں کئی قسم کے تعلقات میں رخنے پڑتے ہیں۔لیکن بظاہر یہ ایک معمولی ایسی بات ہے جس کی ہم آپس میں ایک دوسرے سے توقع نہیں رکھتے۔آپ کہتے ہوں گے کہ یہ نصیحت مسلمانوں کو کیوں کی گئی ہے کہ ایسا وعدہ نہ کرو جسے پورا نہ کر سکو۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہر گھر میں ایسے وعدے ہوتے ہیں جسے پورا نہیں کیا جاتا ایسے وعدے ہوتے ہیں جنہیں اس نیت سے کیا جاتا ہے کہ پورا کرنا ہی نہیں ہے مائیں وعدے