خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 718
خطبات طاہر جلد 13 718 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 رستمبر 1994ء بنایا بھی ہے کہ نہیں جو ہمارے، آئندہ آخرت میں کام آئے گا۔پس اخلاق حسنہ میں سے صرف ایک حصہ یعنی نیت کی حفاظت، جو درحقیقت تمام اخلاق صلى الله حسنہ پر نگران ہے صرف اسی پر عمل کر کے دیکھیں تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی نصیحت ہر انسان کی ساری زندگی پر ، تمام بنی نوع انسان کی تمام زندگیوں پر حاوی ہوگی اور اسی کا حق ادا کرنے میں ایک انسان اپنی ساری زندگی صرف کر دے تو پھر بھی حق ادا نہیں کر سکے گا۔یہ معنی ہے جو میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی نصائح کو ٹھہر کر ، غور اور فکر کے ساتھ ، گہری نظر سے دیکھیں اور صرف دیکھیں نہیں اس کو اپنی زندگی پر چسپاں کرنے کی کوشش کریں، اپنے اخلاق کو اس کی روشنی میں ایک نئی صنعت عطا کریں نئی تخلیق بخشیں پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اندر روز بروزنئی پاک تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اور اس بات کے گواہ پہلے آپ کے گھر والے ہونے چاہئیں کیونکہ نیکی کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے۔اگر آپ کے گھر والوں کو علم نہیں ہو سکا کہ آپ کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں تو پھر یہ غلط نہی ہے کہ وہ تبدیلیاں واقعہ پیدا ہو رہی ہیں۔لیکن گھر والوں کے علاوہ آپ کے قرب وجوار میں جو لوگ رہتے ہیں، جن سے تجارت کے معاملات ہیں ، لین دین کے تعلقات ہیں یا بہن بھائی، جب ورثے کی تقسیم کا وقت آتا ہے ایسے تمام مواقع پر جبکہ انسان کے اخلاق حقیقت میں آزمائے جاتے ہیں وہ وقت ہے کہ اخلاق کا حلیہ، اخلاق کی اصلیت ظاہر ہوتی ہے اور اس وقت جو اوپر چمک ہوتی ہے وہ اچانک بعض دفعہ زائل ہو کر ، نیچے گندی نیت کے دھاگے بالکل صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔ایسے موقع پر انسان پہنچانا جاتا ہے کہ زندگی بھر وہ کیا کرتا رہا ہے۔میرے علم میں بعض دفعہ ایسے واقعات آتے ہیں کہ بظاہر ایک خاندان بہت ہی اچھے محبت کے تعلقات میں بندھا ہوا۔بھائی، بہنوں سے پیار کرتے ہیں ، بہنیں، بھائیوں پر فدا، لیکن جب باپ نے آنکھیں بند کر لیں اور ورثے کی تقسیم کا وقت آیا تو سارے اخلاق غائب۔پھر وہ بھائی جو قابض ہو جائے جائیداد پر وہ طرح طرح سے بہانے بنا کر اپنے باقی بھائیوں یا بہنوں کو ان حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔ایسی بہنیں ہیں جو جوان تھیں جب ان کے والدین گزر گئے اور اب بوڑھی ہوگئی ہیں اور ابھی تک ان کے بھائیوں نے ان کے حقوق ادا نہیں کئے اور ویسے بڑا با اخلاق خاندان تھا ، آپس میں بڑے تعلقات تھے۔تو یہ جو مضمون ہے یہ بہت ہی گہرا ہے