خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد 13 719 خطبه جمعه فرموده 23 ستمبر 1994ء اور اس کی پہچان کے بعض اوقات ، آتے ہیں، بعض آزمائش کے وقت آتے ہیں جن میں نیتیں ابھر کر باہر آ جاتی ہیں اور اوپر کی چمک غائب ہو جاتی ہے جیسے ریت میں پانی جذب ہو جاتا ہے اور خشک ریت پھر دکھائی دینے لگتی ہے تو انسانی تعلقات کے جتنے دائرے ہیں ان سب کے پیچھے کچھ نیتیں ہیں وہ روز مرہ دکھائی دیں یا نہ دیں لیکن بعض ایسے آزمائش کے وقت آتے ہیں جن میں وہ ضر ورزنگی ہو جاتی ہیں۔ایسے وقتوں میں انسان پہچانا جاتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو ہمیشہ کے لئے دنیا کی نظر سے الگ چھپ کر ایک منافقانہ زندگی ایسی بسر کر سکے کہ وہ ہمیشہ لوگوں کی نظر سے اوجھل رہے۔پس وہ مذہب جو ایسے انسان پیدا کرے جن کی زندگی کا ہر شعبہ با اخلاق ہو، جن کی انجمن بھی با اخلاق ہو اور ان کی تنہائی بھی با اخلاق ہو، جن کے گھر کے تعلقات بھی با اخلاق ہوں، جن کے دوستوں کے تعلقات بھی با اخلاق ہوں اور بازار کے تعلقات بھی با اخلاق ہوں اور سیاسی تعلقات بھی با اخلاق ہوں، غرضیکہ زندگی کے ہر دائرے میں وہ اسی طرح با اخلاق رہیں جیسے دوسرے دائروں میں با اخلاق ہیں اور کسی آزمائش کے موقع پر ان کے خلق کی تہہ میں دبی ہوئی گندگی اچھل کر باہر نہ آئے بلکہ اس کے برعکس نمونہ ظاہر ہو اور برعکس نمونہ یہ ہوا کرتا ہے کہ جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو وہ انسان جو حقیقت میں با اخلاق ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوب صورت ہو کر چمکتا ہے اور اس وقت اس کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ ہم تو اس کو محض اچھا سمجھ رہے تھے یہ تو بہت ہی اچھا نکلا۔اس نے تو حیرت انگیز کردار کا نمونہ دکھایا ہے۔اس کی بعض مثالیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمارے اخلاق سدھارنے کے لئے ہمیں دیں بعض مثالوں کی صورت میں پیش فرمائیں۔ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص تھا جس نے کسی مزدور کی مزدوری اپنے خیال سے درست دی لیکن مزدور یہ سمجھتا تھا کہ مجھے کم دی جارہی ہے اس نے اصرار کیا لیکن وہ اپنی ذات میں اپنے آپ کو درست سمجھتا تھا اور دیانتدار انسان تھا۔اس نے کہا کہ نہیں تمہارا جو حق بنتا ہے وہ میں دے رہا ہوں۔اس نے کہا ٹھیک ہے اگر یہ بات ہے تو میں یہ حق چھوڑتا ہوں اور میں جا رہا ہوں اور اس نے حق لینے سے انکار کر دیا۔اب سوال یہ ہے کہ کون سچا تھا یہ خاص آزمائش کا وقت تھا۔یہ پہچان کہ یہ با اخلاق تھا یا الله وہ با اخلاق تھا۔کس کی بات سچی تھی ایک عجیب رنگ میں دنیا میں ظاہر ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے اس نیک نتیجے کی طرف توجہ دلا کر ہمیں اخلاق کا درس دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ وہ شخص چلا گیا، لیکن یہ