خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 717
خطبات طاہر جلد 13 717 خطبہ جمعہ فرموده 23 ستمبر 1994ء کی ہمدردی کرتے ہیں تو اس میں دکھاوے کا پہلو آ جاتا ہے۔کئی لوگ بظا ہر حسن خلق سے سلوک کرتے اور جواب دیتے ہیں لیکن دل میں اس شخص کے لئے نفرت پاتے ہیں اور دل میں اس کے لئے میل رکھتے ہیں تو ان کا ظاہری خلق بھی ایک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے۔صبح سے لے کر رات تک اپنے روز مرہ اعمال پر غور پر کریں وہ قدم جو اٹھاتے ہیں ان پر غور کریں تو بسا اوقات آپ نیتیں چھپانے کا سفر کر رہے ہوتے ہیں، نیتیوں کو درست کرنے کا سفر نہیں کرتے اور نیتوں کو چھپانے کا جو مضمون ہے یہ ساری زندگی پر محیط ہے۔ہم جو روز مرہ کپڑے بدلتے ہیں اور عورتیں میک اپ کرتی ہیں یہ سارا مضمون در اصل بعض عیوب چھپانے کا مضمون ہے نا۔چنانچہ لباس کا بنیادی فلسفہ بھی قرآن کریم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آدم پتوں میں اپنے عیوب چھپانے لگا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ لِباس التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: 27) یہ ظاہری لباس دراصل تمہاری بدیاں چھپانے کے کام آتے ہیں اور یہ میک اپ جو ہیں تمہارے چہروں کے داغ چھپانے کے لئے کام آتے ہیں مگر حقیقت میں اگر کوئی چیز عیب کو حقیقت میں زائل کر سکتی ہے اور بدیوں کو حسن میں تبدیل کر سکتی ہے تو وہ لِبَاسُ التَّقْوى ہے یعنی اللہ کے خوف کا لباس۔یہ خوف کہ خدا ہم سے ناراض نہ ہو جائے ، یہ خوف دل پر غالب ہو اور اس نیت سے کوئی کام کیا جائے تو ہر عمل غیر معمولی طور پر اللہ تعالی کے ہاں قبولیت کے لائق ٹھہرتا ہے اور اس کو ویسے بھی ہر پہلو سے برکت ملتی ہے اور ہر عمل جو اس کے نتیجے میں کیا جاتا ہے وہ محفوظ ہو جاتا ہے، وہ شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔اب اس پہلو سے اگر آپ اپنی زندگی کے سفر پہ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ اس ایک حدیث کے دائرے سے بھی بار ہا باہر نکل آئے اور اس کی حفاظت میں آپ قلعہ بند نہیں رہے۔ہزاروں لاکھوں زندگی کے ایسے سفر تھے جن کے پیچھے نیتوں میں فتور تھا، ایک ایک قدم پر یہ فتور تھا اور ان کی نا آشنائی کی وجہ سے، ان سے ناواقفیت کی وجہ سے ہم بہت سے اپنے اعمال ضائع کرتے چلے جاتے ہیں اور قرآن کریم جو یہ فرماتا ہے کہ ایسی عورت کی طرح نہ بننا جو سوت کاتنے کے بعد اس کو پارہ پارہ کر دے۔یہ مثال کسی نہ کسی پہلو سے ہر انسان پر صادق آ رہی ہوتی ہے ایک طرف وہ اچھے عمل کر رہا ہے، دوسری طرف اس کی نیتوں کا فتور یا ان کی غلطی یا اپنی بے حسی ان نیک اعمال کو ضائع کرتی چلی جاتی ہے اور یہ نہیں پتا چلتا کہ ہم نے کچھ آئندہ کے لئے اکٹھا کیا بھی ہے کہ نہیں، کچھ ذخیرہ