خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 700
خطبات طاہر جلد 13 700 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء دیکھیں مولوی بھی ، ان کی حکومتیں، ان کی عدالتیں، خدا کی اس تقدیر کو یہ بد بخت کبھی بدل نہیں سکتے۔نا ممکن ہے کہ اللہ کی اس تقدیر کو یہ بدل دیں۔پہلے کب بدل سکے ہیں جواب بدل کے دکھا دیں گے۔اس لئے میں ان لوگوں کو جو آج اشکبار ہیں حزیں دلوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، بھاری دل لئے بیٹھے ہیں ان کو بتاتا ہوں کہ ان آنسوؤں کو پونچھ ڈالو، تمہارے لئے رونے کا مقام نہیں ان بدبختوں کے لئے رونے کا مقام ہے۔فَلْيَضْحَكُوا قَلِيْلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا قرآن کریم ایسے موقعوں پر فرماتا ہے کہ یہ ہنس رہے ہیں۔ان بد بختوں کو کیا پتا ہے کہ ان کے لئے کیا مقدر ہے اگر ان کو سمجھ آئے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور کس وجہ سے ہنس رہے ہیں تو ہنسیں کم اور روئیں بہت۔ایسا روئیں کہ وہ رونا پھر ختم نہ ہو۔تو ان کے لئے تو خدا کی تقدیر وہی ظاہر ہوگی جو دائمی رونے پر ان کو مجبور کر دے گی۔لیکن اس ضمن میں میں پاکستان کے احمدیوں کو بھی اور سب دنیا کے احمدیوں کو بھی پھر یاد دہانی کراتا ہوں کہ جہاں تک پاکستان کے احمدیوں کا تعلق ہے اپنے وطن کی محبت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔جس سرزمین میں ان کو دکھ پہنچ رہے ہیں وہ ان کا مولد بھی ہے ان کا موطن بھی ہے جو خدا کے پاک بندے ہیں اور ان میں بھی سب مولوی ایک جیسے نہیں ہیں، بد بخت ملاں ایک اپنی الگ شان رکھتا ہے وہ چہرے کی نحوست سے پہچانا جاتا ہے ان کی تصویر میں آپ روزانہ جنگ میں چھپتے ہوئے دیکھیں گے اور صاف پتا چلتا ہے کہ یہ کون سی مخلوق ہے۔مگر ا کثر شریف علماء تو بے چارے اخباروں میں آتے ہی نہیں ہیں اور خفیہ خفیہ ہمارے خطبے سنتے ہیں، احمدیوں سے الگ محبت سے ملتے بھی ہیں اور بہت سے ایسے مولوی ہیں جنہوں نے اپنا خاموش سا یہ وہاں کے نسبتا کم تعدا د احمد یوں پر رکھا ہوا ہے۔اس طرح کہ وہ لوگوں کو شرارت سے باز رکھتے ہیں وہ نیک دل مولوی ان کو بتاتے ہیں یہ سب فساد کی باتیں ہیں تم نے یہ نہیں کرنا اور اس طرح خاموشی کے ساتھ ان کو ایک نیکی کی توفیق مل رہی ہے اس لئے یہ خیال کر لینا کہ سارے پاکستان کا ہر مولوی بد بخت ہو چکا ہے یہ درست نہیں ہے۔امت محمدیہ کے سب مولوی ایک وقت میں بدبخت ہو ہی نہیں سکتے۔میرا تو یہ عقیدہ ہے۔بہت سے شریف ہیں لیکن بے آواز شریف ہیں اور ان لوگوں کو ہماری بددعا نہیں پہنچنی چاہئے ان کے لئے دعا ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ان کو ان بد بخت مولویوں کے شر سے بچائے۔ان کو قوت گویائی عطا کرے۔ان کو طاقت عطا کرے کہ وہ حق بات کے لئے جرات کے ساتھ کھڑے ہوسکیں اور اس کی وکالت کر سکیں اور جو شرافت دکھا رہے