خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 701 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 701

خطبات طاہر جلد 13 701 خطبہ جمعہ فرمودہ 16 ستمبر 1994ء ہیں کمزوری کے باوجود اللہ ان کو جزا عطا فرمائے۔جہاں تک ملک کا تعلق ہے خطرہ صرف یہ ہے کہ جب بد بخت اس کثرت کے ساتھ کھلے عام مظالم کریں تو بعض دفعہ خدا کی تقدیر سارے ملک پر نازل ہوا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کھول کر بیان فرمایا ہے کہ پھر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ محض ظالم ہی پکڑا جائے۔ایک عذاب عام آ جاتا ہے جس میں پھر جو معصوم ہے وہ بھی مارا جاتا ہے۔اب جب عالمگیر جنگیں ہوتی ہیں تو جنگ یہ تو نہیں دیکھتی کہ یہ معصوم شہری تھا یا ظالم شہری تھا اس کے بداثرات میں یہ سارے لوگ برابر ہی حصہ پاتے ہیں ہاں استثنائی طور پر جب خدا کی تقدیر کسی کی حفاظت فرمائے تو ان کے ساتھ غیر معمولی سلوک بھی ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جنگوں کی خبر دی تو ساتھ ہی یہ خوش خبری بھی عطا فرمائی کہ : آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ( درشین :154) تو خدائے ذوالعجائب سے پیار رکھنے والے بھی تو کچھ معصوم ہوتے ہیں اور عامۃ الناس بے چارے جاہل ہیں اور جہالت اپنی ذات میں ایک ظلم ہے جس میں وہ ملوث ہیں لیکن ان میں بھی کچھ جاہل ہیں، کچھ کی فطرت ایسی صاف ہے کہ وہ اپنی جہالت کے باوجود فطرت صحیحہ کے خلاف حرکت نہیں کر سکتے۔ان کی اگر تعداد کافی نہ ہوتی تو پاکستان میں جماعت احمدیہ کے حالات بہت بدتر ہوتے اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے عوام الناس میں جہالت کے باوجود ابھی فطرت صحیحہ کا غلبہ ہے اور عامتہ الناس کی جو رائے ہے وہ حق کو پہچانتی ہے کم سے کم اس حد تک کہ ظلم میں قدم نہیں رکھنے دیتی ان کو۔مولوی کی بات میں اپنی جہالت کی وجہ سے یقین بھی کر لیں تو فطرت ان کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ معصوم لوگوں پر ظلم کریں۔پس عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے ان کی فطرت ان کو کسی پر ظلم کی اجازت نہیں دیتی ان لوگوں کی بڑی کثرت پاکستان میں موجود ہے اور وہی ہیں جو ہمیشہ ابتلاؤں کے وقت اللہ تعالیٰ سے یہ سعادت پاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو مختلف جگہوں پر مختلف رنگوں میں اپنے سہارے دیتے ہیں اور ان کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں بھی یہ رواج تھا۔مشرکین میں کچھ بہت بد بخت تھے