خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد 13 649 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 راگست 1994ء دیکھا ہو گا، جو مرضی کر لیں، چھینک رکتی نہیں، کئی لوگوں کو میں نے دیکھا ہے، ناک کو دباتے ہیں، ادھر سے ادھر سے ہاتھ رکھتے ہیں، رومال رکھ لیتے ہیں، جو مرضی کریں آئی ہوئی چھینک نہیں رکتی، کیونکہ اس کی طاقت بڑی ہے۔پیچھے دباؤ بہت غیر معمولی ہے۔اس راز کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سمجھا دیا کہ غیر معمولی موقع ہے اور دعا کا وقت ہے، کیونکہ ایک بہت بڑا خطرہ ایک شخص کے لئے پیدا ہوا تھا، جو ٹال دیا گیا ہے تو فرمایا کہ جب تمہیں چھینک آئے تو کہا کرو الْحَمْدُ لِلهِ سب حمد اللہ ہی کے لئے ہے جس نے مجھے اس سے نجات بخشی اور جب کوئی سنے تو یہ کہے یرحمک الله اللہ تجھ پر رحم فرما تا ر ہے جس طرح اس دفعہ تجھ پر خدا نے رحم فرمایا ہے اس طرح آئندہ بھی رحم فرماتا رہے۔تو بظاہر ایک چھوٹی سی بات تھی لیکن اس کی کنہ تک جائیں اس کی تہہ تک اتر کر دیکھیں تو کتنا بڑا حکمت کا اس میں خزانہ ہے۔ہزار ہا ایسے مواقع ہوتے ہیں جب انسان کو خدا تعالیٰ خطرات سے بچا لیتا ہے لیکن انسان کو علم بھی نہیں ہوتا۔مگر کم سے کم ان موقعوں پر جہاں انسان یقینی طور پر جانتا ہے کہ مجھے خدا نے اپنے فضل کے ساتھ ایک بڑے خطرے سے بچالیا ہے ضروری ہے کہ انسان کا دل حمد کی طرف مائل ہو اور بھائیوں کا جو دیکھ رہے ہیں یہ فرض ہے کہ اس میں اس کی مدد کریں اور کہیں آئندہ بھی اللہ تجھ پر رحم فرماتا ہے، آئندہ بھی اللہ تعالیٰ تجھے اس قسم کے خطرات سے بچاتا رہے۔تو آج کے لئے میں نے نمونہ یہ ایک حدیث آپ کو سمجھانے کے لئے چینی تھی۔خیر کی طرف بلانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو بات آپ اچھی سنیں وہ دوسروں تک پہنچائیں اور آنحضرت ﷺ کی محبت بھری، پیار بھری حکمت سے پر نصیحتوں کو اپنے معاشرے میں عام کریں اپنے بچوں کو سکھائیں، اپنے بڑوں کو بتا ئیں اور اپنے غیروں کو بھی سمجھا ئیں۔اللہ کرے کہ ہمیں اس کی توفیق ملے اور آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر اس بات کو آپ شیوہ بنالیں گے جیسا کہ میں نے آپ کو سمجھایا ہے کہ اپنی ذات سے نصیحت کا سفر شروع کریں گے اپنے گھر ، اپنے ماحول میں نصیحت کرنے کی عادت ڈالیں گے، پیار اور محبت اور دعاؤں کے ساتھ نصیحت کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ آپ کی ذمہ داریاں آسان فرمادے گا جو غیروں کی تربیت کی ذمہ داریاں آپ پر ڈالی گئی ہیں اور جو دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہیں۔بعض جگہ اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ انسان فکروں میں ڈوب جاتا ہے کہ ہم کیسے ان ذمہ داریوں کا حق ادا کر سکیں گے مگر آنحضور کا طریق نصیحت یہ تھا کہ چھوٹی چھوٹی پیاری پیاری باتوں