خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 648 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 648

خطبات طاہر جلد 13 648 خطبه جمعه فرموده 26 اگست 1994ء آدمی کی دعوت قبول کرنا کون سی نیکی ہے۔اچھے کھانوں کی طرف بلایا جائے تو ان کھانوں کی طرف جانے پر لبیک کہنا بھلا کون سی نیکی ہے۔آنحضرت ﷺ جو فرما ر ہے ہیں یہ اور بات ہے۔فرماتے ہیں کہ اگر تمہارا غریب بھائی تمہیں اپنے گھر دعوت پہ بلاتا ہے تو اس کی غربت کی وجہ سے اس کا انکارنہ کر دینا خواہ اس کے گھر سے کچھ بھی ملنے کی توقع نہ ہو۔پس آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر جیسا کہ میں پچھلے خطبہ میں بھی بیان کر چکا ہوں فرمایا کہ اگر ایک پائے کی دعوت بھی ہو۔یعنی ایک بکری کے پاؤں کی دعوت بھی ہو اس کو بھی حقیر نہ سمجھو۔یہاں سارا دلداری کا مضمون ہے، بے سہارا لوگوں کے سہارا بننے کا مضمون ہے۔پس ایسی دعوت جو اپنے روز مرہ کے کھانے کے معیار سے بہت گری ہوئی ہوتی ہے اس کو دعوت کی خاطر قبول نہیں کیا جاتا یعنی کھانے کی خاطر تو قبول نہیں کیا جا تا بلکہ دلداری کی خاطر قبول کیا جاتا ہے۔پس آپ نے جہاں فرمایا کہ دعوت قبول کرو مراد یہ ہے کہ تکبر کی راہ سے کسی غریب سے غریب آدمی کی دعوت کا رد نہیں کرنا ہاں اگر ایسی مجبوری ہے کہ بڑے آدمی کی دعوت بھی تم رد کرتے ہو ان مجبوریوں میں تو پھر یہ کوئی گناہ نہیں یہ جائز ضرورت ہے لیکن محض اس لئے کہ کوئی شخص غریب ہے اس کی دعوت رد کرنا یہ مسلمان کا دوسرے مسلمان کی حق تلفی کے مترادف ہے۔پھر فرمایا اگر وہ چھینک مارے تو الحمد للہ کہے اب دیکھیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلام نے اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بیان فرما ئیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں ہی میں زندگی ہے اول تو یہ چھینک کا کیوں خیال آیا، سوچنے والے سوچتے ہوں گے کہ روز مرہ کی باتیں ہوتی ہیں اباسیاں بھی تو انسان لیتا ہے انگڑائیاں بھی تو لیتا ہے اس موقع پر کوئی دعا نہیں سکھائی گئی چھینک کے موقع پر کیوں دعا سکھائی گئی۔آج جبکہ سائنس ترقی کر چکی ہے۔جبکہ علم طب نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے بڑے بڑے راز دریافت کر لئے ہیں انسانی زندگی کے، تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ چھینک عموما اس وقت آتی ہے، جب کہ کوئی ایسا ذرہ دماغ کی طرف حرکت کر رہا ہے، ناک کی نالیوں میں کہ اگر وہ دماغ تک پہنچے تو اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔پس غیر معمولی طاقت کے ساتھ وہ چھینک آتی ہے اور ایک سائنسی رسالے میں میں نے یہ پڑھا اور میں حیران رہ گیا کہ چھینک کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ سینکڑوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چھینک آتی ہے تاکہ کوئی ذرہ جو دماغ کی طرف جا رہا ہے۔جس سے نقصان کا خطرہ ہے وہ آنافا نا اس غیر معمولی دھکے سے باہر نکل جائے۔پس آپ نے