خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد 13 588 خطبه جمعه فرموده 5 راگست 1994ء انشاء اللہ قیامت تک اللہ تعالیٰ تمہیں بنائے رکھے گا۔اگر تم انکساری کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے زندگیاں بسر کرو گے تو اس نعمت کو کوئی تم سے چھین نہیں سکے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں توجہ دلائی گئی ہے۔وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللہ کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ اس لئے ہے کہ تم خدا کے شکر گزار بندے بنو وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تم تو آگ کے کنارے پر کھڑے تھے اللہ نے اس کنارے سے تمہیں بچالیا۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے نشانات تم پر کھول کھول کر بیان فرماتا ہے ان کی حقیقتیں بیان فرماتا ہے ان کا فلسفہ تم پر روشن فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کہ تم میں اب ہمیشہ ایک ایسی امت قائم رہنی چاہئے يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ جو بھلائیوں کی طرف بلاتی رہے نیکی کی طرف بلائے وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اور معروف چیزوں کا حکم دے وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بری باتوں سے روکتی رہے وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں یعنی کا میابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔پس یہ جو اجتماعیت ہے آپ کی اس کی حفاظت کا ایک اور گر آپ کو بتایا گیا۔پہلا تو یہ کہ اللہ کی نعمت کا ذکر کرتے رہو اور یہ احسان مندی کا ایک اور طریق ہے وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللہ میں دراصل میں نے جو آپ سے کہا تھا، شکر گزاری کا مضمون اللہ تعالیٰ نے یہیں بیان فرمایا ہے وہ ذکر کے ساتھ وابستہ ہے وہ لوگ جو احسان فراموش ہوتے ہیں وہ احسانات کو بھلا دیا کرتے ہیں اور وہ لوگ جو احسان کو دل میں قبول کرتے ہیں، دل پر گہرا اثر لیتے ہیں وہ احسانات کا ذکر کرتے ہی رہتے ہیں۔بعض دفعہ ایک چھوٹی سی بات بھی ایک انسان کسی احسان مند انسان کے ساتھ کر دے حسن سلوک کی ، تو اتناذ کر کرتا ہے، کہ جس سے احسان واقع ہو گیا وہ بے چارہ مصیبت میں پڑ جاتا ہے وہ شرمندگی سے اس کو روکتا ہے خدا کے لئے بس کرو کچھ بھی نہیں چھوٹی سی بات تھی مگر وہ چھوڑتا ہی نہیں تو اتنا بڑا احسان یعنی محمد رسول اللہ ہے ان کے ذکر کو کیسے چھوڑو گے۔پس ذکر میں احساس شکر داخل ہے کثرت کے ساتھ اس احسان کا ذکر کیا کرو تا کہ تم شکر گزار بندے بنواور اگر شکر گزار بندے بنو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر بکثرت اور احسان فرمائے گا اور دوسرا ایک ذریعہ اس نیکی کی