خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد 13 587 خطبه جمعه فرموده 5 را گست 1994ء شروع کر دیں۔کئی قسم کے فتنوں نے سراٹھا لیا۔لوگ مجھے لکھتے تھے کہ اوہو یہ کیا ہو گیا اب تو آپ آگئے ہیں اور حکومت نے ان لوگوں کو شہ دی ہے منافقوں کی سر پرستی کر رہی ہے پیٹھ ٹھونک رہی ہے اور لگتا ہے کہ سب ہاتھ سے نکل جائیں گے۔میں ان کو ہمیشہ یہ لکھتا رہا کہ آپ کو وہم ہے نہیں نکلیں گے ہاتھ سے۔وقتی طور پر ایک دھوکا ہے ان کا اور پھر صحیح صورتحال پر واپس آجائیں گے اور وہ جو رشتہ بند ھے گاوہ دائمی ہے وہ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ وہ ابتلاء میں ثابت قدم رہنے والا رشتہ ہے۔پس جو چند منافقین ہیں، چند کمزور ہیں ، وہ ٹھیک ہے ہاتھ سے جاتے رہیں گے مگر ان کی قطعا کوئی پرواہ نہ کریں۔ان میں سے بھی بہت سے واپس آئیں گے اور پھر مزاج درست کر کے واپس آئیں گے اور بعد میں پھر یہی کیفیت رونما ہوئی مگر اب تو اللہ تعالیٰ نے اس ظاہری اور روحانی رشتے کو ملا کر عالمی طور پر ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک ایسا نیا نظام قائم کر دیا ہے کہ خلافت احمدیہ کو قیامت تک مستحکم کرنے کے لئے یہ سب کچھ کیا گیا ہے۔اس لئے اب یہ خیال بھلا دیں دل سے کہ خلافت رابعہ آگئی اور بعد میں پھر وہی کچھ ہو گا جو پہلے ہو چکا ہے۔یہ بالکل واضح جھوٹ ہے اگر کوئی یہ غلط امید میں لگائے بیٹھا ہے تو وہ نا مرا در ہے گا ان امیدوں کا پھل کبھی نہیں دیکھے گا۔کیونکہ خلافت رابعہ میں تو اجتماعیت کا آغاز ہوا ہے اختتام کے اعلان نہیں ہو رہے یہ بتایا جارہا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو خلافت دی گئی ہے محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت کو قیامت تک جاری کرنے کے لئے دی گئی ہے اور اس لئے یہ وہم دل سے نکال دو کہ خلافت رابعہ آخری دور ہے۔خلافت رابعہ آئندہ آنے والے حالات کے لئے جو آسمان سے تقدیر میں رونما ہورہی ہیں ان کے لئے ایک پیش خیمہ بن گئی ہے۔پس نئے باب کا آغاز ہے نہ کہ پرانے دور کے اختتام کا اعلان ہے۔پس یہ جو آپ نے کیفیتیں دیکھیں اور اس سے لطف اندوز ہوئے ان سب باتوں کواس سارے پس منظر میں سمجھیں، اس کی کیفیات کو اپنے دلوں میں اپنے خون میں اپنے مزاج میں داخل کر دیں اور ساری زندگی آپ کی سرور کی زندگی بن جائے گی۔پس وہ خدا کا احسان کہ آپ کو اکٹھا کر دیا آج یہ دوہری صورت میں ظاہر ہوا ہے اور اس آیت کے حوالے سے میں بتاتا ہوں کہ محمد رسول الله اللہ ﷺ کی برکت سے ہوا ہے۔فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةٍ اِخْوَانًا محمد رسول اللہ ﷺ کی نعمت سے تم جیسے کل بھائی بنائے گئے تھے۔آج پھر بھائی بنائے گئے ہو لیکن خدا کی قسم اب جو بنائے گئے ہو