خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 589
خطبات طاہر جلد 13 589 خطبه جمعه فرموده 5 راگست 1994ء حفاظت کا یہ بیان فرمایا ہے وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ تم میں ہمیشہ کچھ لوگ اس بات پر وقف رہنے چاہئیں جو بھلائی کی طرف بلاتے رہیں کوئی مانے نہ مانے کوئی اثر قبول کرے یا نہ کرے بلاتے ہی رہیں وَ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اچھی باتوں کا حکم دیں یعنی يَأْمُرُ سے مراد جبر کا حکم نہیں ہے بلکہ تاکیدی نصیحت مراد ہے۔تاکیدی طور پر اچھی باتوں کی نصیحت کرتے رہیں اور بری باتوں سے روکتے رہیں وَ أُولَيْكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوں گے۔پس کامیابی کا سہرا قوم کے اس حصے کے سر پر باندھا گیا ہے جو لوگوں کو نیک نصیحت کرتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے پس آپ اگر اس کامیابی میں اول شریک ہونا چاہتے ہیں وہ کامیابی جو خدا نے آپ کے لئے مقدر فرما دی ہے تو وہ اول حصہ بنیں جن کے متعلق خدا نے فرمایا ہے کہ اگر تم نصیحت کرنے والے بنو گے، برائیوں سے روکنے والے بنو گے تو درحقیقت تم کامیاب ہو گے کیونکہ تمہاری وجہ سے قوم ہلاکت سے بچائی جائے گی۔پھر فرمایا وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ البينت دیکھو ایسے نہ بن جانا کہ وہ لوگ جو پھٹ گئے آپس میں ایک دوسرے سے جدا جدا ہو گئے اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَتُ اور اختلاف کر بیٹھے باوجود اس کے کہ ان کے پاس کھلے کھلے روشن نشان آچکے تھے۔یہ کون لوگ ہیں؟ اولین کے بعد آنے والے لوگ ہیں اور یہاں براہِ راست وہ آخرین مخاطب ہیں جن کو خدا نے دوبارہ محمد رسول اللہ اللہ کی نعمت کے ذریعے ایک ہاتھ پر اکٹھا فرمایا ہے۔اس مضمون کی ترتیب کو دیکھیں کیسی واضح ہے فرمایا دیکھو تمہیں ہم نے دوبارہ اکٹھا کیا ہے اسی ایک رسول کے ہاتھ پر دوبارہ اکٹھا کیا ہے، اسی کی نعمت کے طفیل اسی کے احسان کے تابع تم اکٹھے ہوئے ہو اب پھر وہ حرکت نہ کرنا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے وصال کے کچھ عرصے کے بعد ظاہر ہوئی اور قوم پھٹ گئی اور مختلف فرقوں میں تبدیل ہو گئی اور ان کے دل بھی جدا جدا ہو گئے ، ان کے دماغ بھی جدا جدا ہو گئے فرمایا اگر تم ایسا کرو گے تو یا درکھنا یہ وہ لوگ ہیں۔لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ان کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں اس نئے دور کے فیض کو اپنے وجودوں میں ہمیشہ زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے جو دراصل پرانے دور ہی کا ایک فیض ہے جو نئے پیمانوں میں آیا ہے کہتے