خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد 13 549 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 جولائی 1994ء اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً انہوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنالیا ہے۔کس غرض ے؟ فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیلِ اللهِ تا کہ اس بہانے بیچ میں داخل ہو کر اللہ کے رستے سے لوگوں کو روکیں اِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ یقیناً بہت برا ہے جو یہ کرتے ہیں ذلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا یہ وہ منافقین نہیں ہیں جو شروع ہی سے نفاق رکھتے تھے بلکہ ان منافقین کی بات ہو رہی ہے جو پہلے ایمان لے آئے تھے ایمان لانے کے بعد انہوں نے کفر کیا ہے۔آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا پس صرف منافق ہی نہیں مرتد بھی ہیں اور یہ بہت ہی اہم حصہ ہے اس آیت کا کیونکہ اس سے صرف ایک مضمون پر نہیں بلکہ ایک دوسرے اہم مضمون پر بھی روشنی پڑتی ہے جو آج کل اسلامی ممالک میں مبحث بنا ہوا ہے یعنی مرتد کی سزا کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ اس صورت میں ان دونوں مضامین کو ایک جگہ اکٹھا کر رہا ہے۔ایسے بدبخت منافقین کا ذکر کیا جا رہا ہے جو یقیناً ایمان لے آئے تھے اور یقیناً بعد میں کافر ہو گئے یعنی ارتداد اختیار کر گئے۔فَطَبعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ اور بیماری اس حد تک بڑھ گئی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب ان کے بچنے کا ، ان کے دوبارہ ایمان لانے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہا۔پس یہ اگر و ہم کسی دل میں ہو کہ یہ دوبارہ ایمان لا سکتے تھے اس لئے ان سے نرمی کا سلوک کیا گیا۔اس وہم کو قرآن کریم کی یہ آیت ہمیشہ کے لئے رفع کر دیتی ہے۔وہ یہ لوگ ہیں جن کے لئے آئندہ ایمان لانے ، تو بہ کرنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہا کیونکہ خدا گواہی دے رہا ہے کہ ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے۔فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ اس کیفیت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان کے سوچنے کی طاقت معطل اور ماؤف ہو چکی ہے، وہ بات نہیں سمجھ سکتے۔وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ یہ معلوم، معروف لوگ ہیں ان کی جسمانی طرز ان کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے والی آنکھوں کو پسند آتے ہیں اور یہاں ”تو “ میں اگر چہ حضور اکرم ہی مخاطب دکھائی دیتے ہیں مگر آنحضرت یہ تو کسی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ سے متاثر ہونے والے انسان نہیں تھے اس لئے بعض دفعہ رسول کے حوالے سے امت کے ہر فرد کو مخاطب کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ اے سننے والے اے دیکھنے والے جب تو ان لوگوں کو دیکھتا ہے تو ان کی ظاہری ٹھاٹھ باٹھ ، ان کے رہن سہن سے متاثر ہوتا ہے۔وَ اِنْ يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ اور ایسی بناوٹ سے، ایسی لوچدار با تیں کرتے ہیں کہ جب بات کرتے ہیں تو تجھے ان کی باتیں بھی دلچسپ معلوم ہوتی ہیں تو