خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 550

خطبات طاہر جلد 13 550 خطبہ جمعہ فرموده 29 / جولائی 1994ء کان لگا کے ان کی باتوں کو سنتا ہے۔كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ لیکن اندر سے یہ حال ہے کہ منافق جیسے بزدل ہوتے ہیں یہ بھی سخت بزدل ہیں جیسے خشک لکڑیاں چن دی جائیں تو ذرا سا آگ کا شعلہ بھی ان کو بھڑکا دیتا ہے اور بھسم کر دیتا ہے خواہ آسمانی بجلی ہو یا زمین سے پیدا ہونے والی آگ ہو یہ لوگ محفوظ نہیں ہیں لیکن جب لکڑیاں چن کر رکھی جائیں تو بہت بھلی دکھائی دیتی ہیں۔یورپ میں خاص طور پر سردیوں کے لئے لکڑیاں سجائی جاتی ہیں اور ناروے میں بہت رواج ہے بہت خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر ایک آسمانی بجلی کا شعلہ یا ایک دیا سلائی ان کو آگ لگا دے تو ایک دم بھڑک کر وہ خاکستر ہو جاتی ہیں۔تو فرمایا ان لوگوں کی اندرونی حالت یہ ہے دیکھنے میں بڑے اچھے سجے ہوئے اور اچھی طرح اپنی ذات میں قائم وجود دکھائی دیتے ہیں مگر خود ڈرتے ہیں۔جانتے ہیں کہ ذرا سی کوئی آفت آئی تو ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوگی۔هُمُ الْعَدُو فَاحْذَرْهُمْ یہ ہیں دشمن ان سے بچ کے رہو۔اگر ان کا علم نہیں کہ کون ہیں تو بیچ کے کس سے رہو۔صاف مضمون کھول دیا گیا ہے۔نام لئے بغیر ہر اس شخص کا ذکر ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں جانا پہچانا منافق تھا۔قَتَلَهُمُ اللهُ أَن يُؤْفَكُونَ اللہ کی لعنت ان پر یہ کہاں دور ہے جاتے ہیں۔لیکن انسان کو قتل کا حکم یہاں بھی نہیں دیا۔اللہ کی لعنت ہو ان پر لیکن کہیں اشارہ یا کنایہ یہ ہیں فرمایا کہ تمہیں حق ہے مسلمانو، کہ ان کا قتل و غارت کرو۔وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ لَوَّوا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُّسْتَكْبِرُونَ اتنی واضح ان کی شناخت ہے کہ آنحضور ﷺ کے زمانے میں جب ان آیات کا نزول ہوا ہے اس سے پہلے ہی صحابہؓ ان کے پاس جایا کرتے تھے اور ان کو کہا کرتے تھے کہ تم تو بہ کر واستغفار سے کام لو تو اللہ کا رسول تمہارے لئے استغفار کرے گا۔وہ تو مجسم شفقت ہے اس لئے اس موقع کو ہاتھ۔جانے دو تو بہ کر لو تا کہ خدا کے رسول کی استغفار تمہیں نصیب ہو۔لَو وارُءُ وَسَهُمْ وہ سر مٹکاتے ہیں وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ اور تو ان کو دیکھتا ہے کہ وہ اور بھی خدا کی راہ سے لوگوں کو پھراتے ہیں، باز نہیں آتے اور تکبر میں مبتلا ہیں۔پس اگر یہ معتین لوگ نہیں تھے تو قرآن کریم نے کن کا ذکر فرمایا ہے کن کے پاس لوگ جایا