خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 536
خطبات طاہر جلد 13 536 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء والے کہتے ہیں ابو بکر کا نام لیا عمرہ کا نام لیا اور دوسروں کے نام لئے۔ہر دفعہ جو غیرت میں کوئی صحابی اٹھتا تھا تو اس کو دبا دیا جاتا تھا کہ نہیں، کچھ نہیں کہنا۔یہاں تک کہ اس نے اعلان کیا اعل هبل_اعل هبل کہ ھبل ذات کی جے ہوھیل کا نعرہ لگا ؤوہ بلند ہو۔حضرت محمدمصطفی سے یہ عر بن کے بے چین ہو گئے اور فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے جواب کیوں نہیں دیتے وہ خدا پر ھبل بت کی برتری کا اعلان کر رہا ہے اب کیوں جواب نہیں دیتے اب کیوں خاموش ہو۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم کیا کہیں؟ فرمایا کہوالله اعلیٰ و اجل، الله اعلیٰ و اجل اور احد کی وادی اللہ اعلیٰ و اجل کے نعروں سے گونج اٹھی ( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر ۳۷۳۷)۔وہ چند صحابہ زخمی صحابہ تھے جو ایک غار کی پناہ میں بیٹھے ہوئے تھے مگر جب خدا کی غیرت کا سوال آیا ، جب شرک خداوندی کا سوال آیا تو نہ ناموس مصطفوی خاموش رہ سکتی تھی اس وقت نہ محمد رسول اللہ کی جان کی کوئی قیمت آپ کے اپنے نزدیک باقی رہی، نہ صحابہ کی عزتوں اور ان کی جانوں کی کوئی قیمت باقی رہی کیونکہ یہ سارے سلسلے اللہ ہی کی محبت اور اس کے عشق میں تھے اور اگر یہ نہ ہو تو رسالت کی حیثیت ہی کوئی نہیں۔اگر تو حید نہیں تو رسالت کی کوئی بھی حیثیت نہیں، کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔مگر اس قدر جاہل بنا دیا گیا ہے اس قوم کو جیسا کہ میں نے وہ آیت پڑھی تھی کہ جب خدا تعالیٰ انسانوں پر شریعت کا بوجھ لا دتا ہے اور وہ اس بوجھ کوا تار پھینکتے ہیں جیسا کہ قو میں اتار پھینکتی ہیں تو پھر وہ بوجھ گدھوں پر لاد دیا جاتا ہے اور گدھے ان کے سردار بنا دئیے جاتے ہیں یہ صورت حال ہے جو بعینہ ہمارے پیارے وطن ، بدنصیب پاکستان پر صادق آ رہی ہے۔جہاں تک اللہ کی تو ہین کا تعلق ہے وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔جہاں تک شرک خداوندی کا تعلق ہے یہ اور بات ہے لیکن شرک کا مطلب خدا کی توہین نہیں لیا گیا۔یہ جو مبحث کا اختلاط ہے اس کو اب میں کھول کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس سے پہلے کہ میں یہ بات شروع کروں یہ میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ جب کہتے ہیں شرک فی الرسالت برداشت نہیں تو مراد یہ ہے کہ آنحضرت مے کے علاوہ کوئی اور نبی برداشت نہیں۔اتنا جاہلانہ نعرہ ہے کہ وہ لوگ جن کو اسلام کی ادنیٰ بھی شدھ بدھ ہو وہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نعرے میں کوئی جان نہیں بالکل اسلام کے برعکس ہے۔سارے عالم پر نگاہ دوڑا کر دیکھ لیجئے ، تمام مذاہب کی کتب کا مطالعہ کیجئے، ایک بھی ایسا نبی نہیں ہے، جس نے کسی اور نبی کی تصدیق کو اپنے ایمان کی تصدیق میں شامل کیا ہو۔بدھ اپنے کو منواتا ہے اور مطمئن ہو کر چلا جاتا ہے۔