خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 535
خطبات طاہر جلد 13 535 خطبہ جمعہ فرمود و 22 جولائی 1994ء میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں۔وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ بخشتا ہے اس کے سوا یعنی اللہ کے شرک کے سوا) ہر چیز بخش سکتا ہے لِمَنْ يَشَاءُ جس کے لئے چاہے وَمَنْ تُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى اِثْمًا عَظِيمًا اور جو اللہ کا شرک کرے وہ بہت ہی بڑا افتراء، بہت ہی کھلا کھلا افتراء کرنے والا ہے۔لیکن ان علماء نے پاکستان کے دماغ اور سوچ اور کردار کو اس حد تک ذلیل اور رسوا کر دیا ہے کہ خدا کے اس دعوے کے برعکس یہ اعلان کیا جا رہا ہے اور عدالتوں میں اعلان کیا جا رہا ہے کہ ہم رسالت کا شرک برداشت نہیں کریں گے۔خدا کا شرک ہوتا ہے تو ہوتا پھرے اور کر ہی رہے ہیں سارے، ایک دوسرے کو خدا بنائے بیٹھے ہیں، قبروں کی پوجا ہو رہی ہے کون سا شرک ہے جو وہاں جاری نہیں ہے اور جس کے خلاف کسی قسم کا کوئی احتجاج پایا جاتا ہو۔مردہ پرستی تو اتنی عام ہوتی جارہی ہے کہ اس پر چادر چڑھانا یوں لگتا ہے کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے خدا کی مغفرت کی چادر کی لپیٹ میں آگئے۔کسی نے خوب کہا تھا کوئی غریب، فقیر ایک قبر کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو کوئی صاحبہ آئیں اور بہت بڑی چادر اس کو پہنائی۔اس نے کہا مر دوں کو پہنا رہی ہے یہ غریب ننگا بیٹھا ہوا ہے اس کو چادر نہیں پہنا تیں۔یہ اس قوم کا حال ہے عورتوں کے سروں سے چادر میں اتر گئی ہیں۔غریبوں کو تن ڈھانپنے کے لئے چار بالشت کپڑا میسر نہیں آتا اور قبروں پر بڑی بڑی چادر میں پہنانے والے وزراء اعظم اور گورنر اور بڑے بڑے مشاہیر پہنچتے ہیں اور تصاویر کھچوا لیتے ہیں اور ان کی بخشش کے سامان ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کے شرک کا تو کوئی حرج ہی نہیں ہے شرک فی رسالت برداشت نہیں ہوگا اور شرک فی رسالت ہے کیا !؟ یہ بھی تو سمجھا جائے لیکن اس سے پہلے میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کا اپنا موقف بھی آپ کو بتادوں آپ اس موضوع پر کیا کہتے تھے ، آپ کا دل تو وہی تھا جو خدا کا صلى الله دل تھا جو خدا کی باتیں تھیں وہی محمد مصطفی حملے کے منہ کی باتیں بن جایا کرتی تھیں۔جنگ احد کے موقع پر جب ابوسفیان بار بار نام پکار پکار کر غیرت دلا رہا تھا کہ ہو زندہ تو آؤ میدان میں نکلو۔وہ چاہتا تھا کہ پتا چلے مسلمان کہاں چھپے بیٹھے ہیں تو اس نے حضرت محمد مصطفی میں لے کے نام سے مسلمانوں کی غیرت کو للکارا اور کہا کہاں ہے محمد اگر وہ زندہ ہو تو سامنے آئے۔اس پر صحابہ جواب دینے لگے مگر حضرت اقدس محمد مصطفی اعلی نے ہاتھ کے اشارے سے اور زور سے ان کو دبا دیا کہ نہیں کوئی جواب نہیں دینا۔پھر یکے بعد دیگرے مختلف صحابہ کے انہوں نے نام لئے بیان کرنے