خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 526
خطبات طاہر جلد 13 526 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 جولائی 1994ء حیثیت پر کھل کے روشنی ڈالوں گا کیونکہ مضمون لمبا ہے اس لئے میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہو سکتا ہے آئندہ دو تین خطبات تک یہ سلسلہ چلے۔آج ابھی تمہید ہی ختم نہیں ہوئی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ شاید ہی مذہبی حصے کی باری آئے کیونکہ اس کے علاوہ بھی ایک دو اعلانات کرنے ہیں مثلاً جلسہ جو قریب آ رہا ہے اس کے متعلق چند ہدایات ایسی تھیں جو ذکر سے رہ گئی تھیں ان کا ذکر بھی ہوگا۔روانڈا کے متعلق ایک تحریک کرنی ہے پس ان تمام امور سے شاید اتنا وقت نہ بچے کہ مذہبی حصے کا کم سے کم ایک پہلو ہی پوری طرح بیان کیا جا سکے۔پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے در حقیقت سیاست کی قلابازیاں ہیں اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔علماء نے بھی سیاستدانوں کی دکھتی رگ پکڑی ہوئی ہے اور علماء کی دکھتی رگیں بھی سیاست کے ہاتھوں میں ہیں اس لئے جیسے کوئی مداری کسی کھلونے کے بٹن دباتا ہے اور کرتب کرتا یا کراتا ہے ویسے ہی کرتب وہاں دکھائے جارہے ہیں جو اتنا بڑا ہنگامہ بیان کیا گیا کہ علماء نے سپریم کورٹ کا گھیراؤ کر لیا اس کی جو تصویر میں وہاں سے پہنچی ہیں وہ میں آپ کو دکھاؤں کتنا بڑا علماء کا سپریم کورٹ کا گھیراؤ تھا۔پندرہ ہیں کل ہیں جن میں سے دو چار داڑھی والے مولوی ہیں باقی ان کے شاگرد اور لگی لپٹی باتیں کرنے والے اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے اور جو آنکھوں دیکھا حال لوگوں نے بیان کیا ہے اسے سن کے ہنسی آتی ہے کہ چند مولوی گھیراؤ کے نام پر سپریم کورٹ کے سامنے جا کر بیٹھ گئے اور پاکستان کا مرکزی حکومت کا وزیر خود ان کے احترام میں ان سے درخواست کرنے آیا کہ آپ سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہرگز کچھ نہیں ہوگا، آپ چلیں ہمارے ساتھ۔چنانچہ تھوڑے سے نخروں کے بعد وہ ان کے ساتھ روانہ ہو گئے۔سوال یہ ہے کہ ان کا مطالبہ کیا تھا؟ ان کا مطالبہ سپریم کورٹ سے تھا اور سپریم کورٹ پر دباؤ تھا کہ اگر تم نے ہماری مرضی کے فیصلے نہ کئے تو ہم یہ گھیراؤ بند نہیں کریں گے۔ایک وزیر یا ساری کیبنٹ کا کیا حق تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ان سے کوئی وعدہ کرتی۔اس لئے اندر کی کہانی کھلم کھلا باہر آ گئی ہے۔جیسے کہتے ہیں نا انگریزی میں بلی تھیلے سے باہر آ گئی تو پاکستان کی بلیاں ساری کی ساری تھیلے سے باہر دکھائی دیتی ہیں۔عجیب و غریب واقعہ ہے چند علماء کا اکٹھے ہونا اور پھر اتنی بڑی اخباروں میں بیان بازی کہ گویا بہت ہی عظیم الشان ایک واقعہ ہو گیا ہے اور ناموس رسول کی خاطر علماء