خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 527 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 527

خطبات طاہر جلد 13 527 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 / جولائی 1994ء کٹ مریں گے اور ملک برداشت نہیں کرے گا کہ اس کے خلاف کوئی بات ہو اور پھر حکومت کا سر جھکانا کہ ہم کون ہوتے ہیں ناموس رسول کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کوئی ایسا نہیں پیدا ہوا یہاں جو ناموس رسول کے خلاف بات کرے۔اس لئے آپ سپریم کورٹ کا گھیراؤ چھوڑ دیں اور سپریم کورٹ کے متعلق جو آپ کا دباؤ ہے وہ فکر نہ کریں ہم ذمہ دار ہیں۔اگر سپریم کورٹ نے ایسا ویسا فیصلہ دیا تو ہم استعفیٰ دے دیں گے۔یہ کیا تماشہ ہے، کیا کھیل ہے؟ اس کا دوسرا نام نوراکشتی بھی ہے اور پاکستان میں نو را کشتی بہت ہوتی ہے لیکن عجیب بات ہے کہ نورا کشتی کے دنگل میں تبھی لوگ دلچسپی لیتے ہیں اگر احمدیوں کو بیچ میں بٹھایا جائے اور ان کے گرد پھر نوراکشتی کے کھیل ہوں، باقی معاملات میں نو را کشتی نہیں ہوتی۔پرانے زمانے کی بات ہے احمدیوں کے معاملے میں اتنے ہنگامے ہوئے 74 ء کے بعد تقریریں ہوئیں۔ٹیلی ویژن پر پرائم منسٹر صاحب نے اعلان کئے کہ میں کوئی گولی اپنے عوام کے اوپر نہیں چلنے دوں گا جو مرضی کر لو۔لیکن بلوچستان میں ہزار ہا بلوچیوں کو فوج کشی کے ذریعے بھون ڈالا گیا اور وہاں نو را کشتی نہیں ہوئی۔یہ فرق ہے ایک وہ سمجھانا چاہتا ہوں۔جہاں حکومت کو یہ اطمینان ہو کہ احمدیوں کا گوشت ان لوگوں کے سامنے پھینک دیا جائے تو حکومت کا ادنی سا بھی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ان کی وفاداریاں خریدی جاسکتی ہیں اور ان سے پھر اور بہت سے کام لئے جا سکتے ہیں وہاں حکومت ایک ذرہ بھی اس بات کی پرواہ نہیں کرتی کہ معصوم احمدیوں کو ان مولویوں کے آگے ڈالا جائے اور کیسے کیسے ان پر مظالم کروائے جائیں۔ایک ادنی سی بھی پرواہ حکومت کو نہ انصاف کی ، نہ حسن سلوک کی ، نہ شہریت کے حقوق کی کچھ بھی باقی نہیں رہتی اور جہاں معاملہ حکومت کا اپنا آ جائے حکومت کو خطرہ ہو کسی تحریک سے وہاں ہر قسم کی فوج کشی بھی شروع ہو جاتی ہے اور پولیس ایکشن کا بھی کوئی کنارہ باقی نہیں رہتا۔یہاں تک کہ بھٹو صاحب کے مزار کے گرد بھی گولیاں چل جاتی ہیں۔آخر وہاں کیوں عوام الناس کا خون قیمتی نہیں ہے۔وہاں ان چھاتیوں پر کیوں گولیاں برسائی جاتی ہیں؟ یہ مسئلہ ہے جو آپ لوگوں کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہئے تا کہ آئندہ جب کوئی اس قسم کی نو را کشتیاں ہوں تو معصوم احمدی بھولے پن میں مجھے یہ نہ لکھنا شروع کر دیں کہ انقلاب آ گیا۔وہ انقلاب جو آئے گا وہ اوپر آئے گا وہ آسمان پر آئے گا اور آسمان سے اترے گا پھر کسی کی مجال نہیں کہ اس انقلاب کی راہ روک