خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 509
خطبات طاہر جلد 13 509 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولا ئی 1994ء ساتھ تو نہیں سویا کرتے اور اسی کے ساتھ تو نہیں زندگی گزارتے۔جب منزل پہ پہنچے ان کتابوں کا بوجھ اتارا اور فارغ ہو گئے۔دوسرا پہلو اس کا علماء ہیں جو بائبل کے علماء خصوصیت کے ساتھ اس آیت کے پیش نظر ہیں ایک طرف تو قرآن کریم فرما رہا ہے کہ انہوں نے بوجھ اتار دیا، دوسری طرف مثال دے رہا ہے کہ گدھے ہیں جنہوں نے بوجھ اٹھایا ہوا ہے تو اس دوسرے پہلو پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو علماء کا نقشہ سامنے آتا ہے جنہوں نے بوجھ نہیں اتارا بلکہ اس بوجھ کو اٹھائے پھرتے ہیں اور اعلان یہ کرتے ہیں کہ ہم ہی اس بوجھ کے کلیۂ ضامن اور مالک بن بیٹھے ہیں۔ہم سے ہی جو آنا چاہے تعلیم حاصل کرے۔ہم ہی مذہب کی کلیہ اجارہ داری حاصل کر چکے ہیں۔ہم مذہب کی نمائندگی اختیار کر چکے ہیں۔پس جس نے کچھ علم سیکھنا ہے ہم سے آکے سیکھے۔تو مذہبی کتابوں کا اجارہ دار بن جانا جب تنزل کے دور میں علماء کے سپرد ہو جاتا ہے تو اس وقت کا نقشہ ہے جو بہت ہی خوبصورت الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔قوم کا فرض تھا ان میں سے ہر فرد تو رات کی تعلیم کو سمجھتا اس پر عمل کرتا اور اس کا نگران اور محافظ بنے کی کوشش کرتا۔اس صورت میں تو رات کی تعلیم ان کی نگران ہو جاتی اور ان کی حفاظت کرتی۔لیکن قوم نے بحیثیت قوم اس تعلیم کی ناقدری کی ، اس سے پیٹھ پھیر لی اور اپنے گلوں سے یہ بوجھا تار دیا اور پھر کیا ہوا؟ پھر یہ بوجھ گدھوں پر آپڑا۔ان گدھوں پر جو اس کو سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب قوم ایک چیز کی ناقدری کرتی ہے تو عموماً وہ چیز اس حصے کی سپرد کی جاتی ہے جسے اپنے میں سے کمتر بجھتی ہے اور یہی واقعہ ہمیشہ امتوں میں گزرا ہے اور یہی ہوتا رہے گا کہ جب کوئی قوم الہی پیغامات کی ناقدری کرتی ہے تو قوم کا وہ حصہ اس کو اٹھاتا ہے جو قوم کے نزدیک بے حیثیت اور ذلیل ہوتا ہے۔لیکن رفتہ رفتہ چونکہ وہ اس پیغام کے اجارہ دار بن جاتے ہیں اس پیغام کی برکت سے اور قوم کی جاہلیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایک قسم کی سرداری بھی اختیار کر جاتے ہیں لیکن ان کی اپنی حالت ان گدھوں کی سی ہے جن پر کتابوں کے بوجھ لادے گئے ہوں ان کو کچھ پتا نہ ہو کیا اٹھایا ہوا ہے۔تو اگر مرکب گدھا ہونے کا کوئی مضمون ہے تو وہ یہاں بیان ہوا ہے جیسے جہل مرکب کہتے ہیں ایک تو پہلے ہی گدھے تھے جن پر بوجھ ڈالا گیا۔اوپر سے کوئی عقل فہم نہیں کچھ پتا نہیں کہ ہے کیا اور ان کو قوم سردار بنا بیٹھتی ہے۔پس کیسی رسوا کن سزا ہے خدا کے پیغام کی بے حرمتی کرنے کی۔اس سے