خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 510
خطبات طاہر جلد 13 510 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء زیادہ ذلیل سزا کسی قوم کو نہیں دی جاسکتی کہ جس پیغام کو انہوں نے درخور داعتناء ہی نہیں سمجھا تھا وہ سمجھتے تھے اس لائق نہیں ہے کہ ہم اس پر توجہ کریں، اسے پڑھیں ، اس پر عمل کریں ، اٹھا کر قوم کے اس حصے کے سپر د کر دیا جو ان کے نزدیک ادنی اور معمولی حیثیت کے لوگ تھے پھر خدا کی تقدیر نے ان کو ہی ان کا مذہبی سردار بنا دیا اور ایسے مذہبی سردار جو پہلے ہی بے حیثیت ہوں اوپر سے عقل نہ ہو کہ خدائی پیغام کو سمجھ سکیں وہ قوم کے لئے سب سے بڑی لعنت بن جاتے ہیں۔یہ تمام مذہبی تاریخ کا خلاصہ ہے جو اہل کتاب کے حوالے سے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ نے ہم پر کھول دیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِايْتِ اللَّهِ ان بدنصیبوں کی مثال بہت ہی بری ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلا دیا والله لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِینَ اور اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔اس کا اس پہلے مضمون سے کیا تعلق ہے؟ پہلے جس قوم کا ذکر ہے اس نے تکذیب تو نہیں کی اس نے تو بوجھا تارا ہے مگر ایمان قائم رکھا ہے اور کچھ حصے نے بوجھ اٹھایا بھی ہوا ہے خواہ گدھوں کی طرح اٹھایا ہو ، انہیں مکذب تو نہیں کہا جاتا۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ پھر جب بھی انبیاء آتے ہیں ان کی تکذیب کرتے ہیں۔جن کو مذہب کے فلسفے سے اور اس کی حقیقت سے آگا ہی نہ ہو ، جو مذہبی پیغام کی عظمت اور مرتبے کو نہ سمجھتے ہوں، ان کے لئے مذہبی پیغامات جو آئندہ آنے والے نبی کی طرف ہدایت کرنے والے ہوتے ہیں بالکل بے کار اور بے معنی ہو جاتے ہیں اور ایسی قوم تکذیب کے لئے ذہنی اور قلبی اور نفسیاتی ہر لحاظ سے پوری طرح تیار ہوتی ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی آمد پر جو واقعہ گزرا در اصل یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ تورات کی پاک تعلیم تو قوم نے گدھوں کے سپر د کر دی تھی اور گدھے بھی بوجھ کے طور پر اسے اٹھاتے پھرتے رہے ہیں۔ان کی سرداری میں تم جاچکے ہو تمہیں کیسے ان کی طرف سے ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔تمہارے تو مقدر میں تکذیب لکھی جا چکی ہے۔پس اگر تم محمد مصطفی ﷺ کو پہچان نہیں سکتے تو تمہاری اس جہالت کا قصور ہے جس کے نتیجے میں تم نے پہلے پیغام کی ناقدری کی تھی اور اس ناقدری کے نتیجے میں یہ جہالت در جہالت کا سلسلہ شروع ہوا لیکن اس کے باوجود تم اللہ کے دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، کہتے ہو ہمیں اللہ کی حرمت اور عزت کا بڑا پاس ہے ہم اللہ کی خاطر سب کر رہے ہیں۔یہ دعوے ساتھ ساتھ جاری وساری ہیں۔فرمایا اس صورت میں تو صرف ایک ہی علاج ہے کہ تم صلى الله