خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد 13 508 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جولائی 1994ء جولائی بروز ہفتہ سے شروع ہو رہا ہے اور 17 / جولائی تک جاری رہے گا۔تو لجنہ اماء اللہ کے اور ناصرات کے اس اجتماع میں دوست ان کو دعا میں یا درکھیں اللہ ان اجتماعات کو بابرکت فرمائے اور ہر پہلو سے ایسی برکتیں عطا فرمائے جو دانگی رہنے والی ہوں، اجتماع کے دنوں کے ساتھ ختم نہ ہو جائیں۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان کا مضمون بہت ہی دلچسپ اور گہرا اور عبرتناک ہے۔پہلے بھی بارہا اس آیت کی تلاوت کے حوالے سے مذہبی قوموں کے اس اور بار کا ذکر کر چکا ہوں جب وہ اپنی تعلیمی ذمہ داریوں کو بھلا دیتی ہیں۔قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا ہے اس کے دو پہلو ہیں جو ایک دوسرے کے بعد نظر کے سامنے ابھرتے ہیں پہلا یہ کہ وہ تمام لوگ جو اہل کتاب ہیں وہ تمام تر اس آیت کے مضمون کے مخاطب بنتے ہیں۔مَثَلُ الَّذِینَ حَمِلُوا التَّوْرَيةَ یعنی تورات صرف یہود کے علماء اور ربانی کے لئے تو نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ ان تمام کی خاطر نازل کی گئی تھی جنہوں نے موسیٰ کو قبول کیا اور اس پر ایمان لانے کے نتیجے میں اس کی شریعت کے پابند ٹھہرے۔پس قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ تمام اہل کتاب جن سب کو تو رات عطا کی گئی تھی لیکن پھر اس کتاب کا بوجھ انہوں نے اٹھانا ترک کر دیا یعنی اس کی پابندیوں سے بری الذمہ ہو گئے اور آزاد ہو گئے۔ان کی مثال ایک ایسے گدھے کی سی ہے جس پر کتابوں کا بوجھ ڈالا جائے اور کتابوں کا بوجھ جب گدھے پر ڈالا جاتا ہے تو دو طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں یعنی طبعی نتیجے دو ظاہر ہوتے ہیں۔اول یہ کہ گدھے کو کچھ پتا نہیں کہ اس کے اوپر کیا لدا ہوا ہے اور اس کی بلا سے جب یہ بوجھ اترے تو وہ فرحت محسوس کرتا ہے، فراغت محسوس کرتا ہے کہ شکر ہے اس مصیبت سے چھٹکارا ملا۔چونکہ وہ جانتا نہیں کہ اس بوجھ کی قیمت کیا ہے اس لئے اس کے نزدیک اس کی کوئی بھی قدر نہیں ہوتی اور ایسی کامل مثال ہے کہ ہر پہلو سے کامل طور پر ان مذہبی قوموں پر چسپاں ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ ایک نعمت عطا کرتا ہے پھر وہ خود اس نعمت کو سمجھنے کے اہل نہیں رہتے اور جب وہ نعمت اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ وہ اس سے استفادہ کریں ،اس سے پیار محبت بڑھا ئیں، اس نعمت کے نتیجے میں خود بھی فیض اٹھا ئیں اور دنیا کو بھی فیض پہنچا ئیں تو ایک محض ایسا بوجھ ہے جیسا گدھے کے اوپر کتابوں کا بار ہو اور پھر وہ لا زما اسے اتار پھینکتے ہیں ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا میں یہی مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔پھر انہوں نے اس کو نہیں اٹھایا۔جیسے گدھے بھی جب کتابیں ڈالی جاتی ہیں تو ہمیشہ پھر کتا بیں اپنی کمر پر اٹھائے ہوئے اسی کے