خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 484
خطبات طاہر جلد 13 484 خطبه جمعه فرموده 24 / جون 1994ء قیامت کے دن فرمائے گا وہ کہاں ہیں جو میرے جلال کی خاطر محبت کرتے تھے۔جمال کی خاطر محبت کرنے میں ہم آہنگی کا مضمون پایا جاتا ہے۔عام طور پر جمال کی خاطر ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ، ہم صفات لوگ ، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں مگر جلال کی خاطر محبت کا مضمون الگ ہے۔جہاں آپ کے مزاج نہیں بھی ملتے، جہاں طبعا آپ کو الگ الگ ہونا چاہئے محض اللہ کے خوف سے، اس کے جلال کے ڈر سے آپ اگر اپنے ایسے بھائی سے پیار کرتے ہیں جس سے عام حالات میں دنیا والوں کو پیار نہیں ہوا کرتا۔فرمایا خدا فرمائے گا کہاں ہیں وہ لوگ۔آج میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ میسر نہیں اور میں ان کو سایہ دوں گا کیونکہ خدا کے جلال سے اگر کوئی انسان گھبرا کر کوئی نیکی اختیار کرتا ہے تو اسی جلال کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی سایہ اس کے جلال سے اور میسر نہ ہوتو اللہ اپنا سایہ ایسے بندوں کے سر پر فرمائے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسا بندہ لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے دنیا میں کیا عمل کیا اور لوگ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔وو مراد یہ ہے کہ وہ وقت ایسا ہوگا جبکہ کوئی کسی سے کوئی بات چھپا نہیں سکتا اور خدا سے تو ناممکن ہے کہ حشر کے میدان میں کوئی انسان چھپا سکے ، اس وقت اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا تم نے دنیا میں کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا اے میرے رب تو نے مجھ مال دیا۔میں لوگوں سے خرید وفروخت اور لین دین کرتا تھا۔درگزر کرنا اور نرم سلوک کرنا میری عادت تھی۔خوشحال اور صاحب استطاعت سے بھی آسانی اور سہولت کا رویہ اختیار کیا کرتا تھا اور تنگ دست کو بھی سہولت سے قرض ادا کرنے کی مہلت دیتا تھا۔یہ وہ ایک کردار ہے جو بعض دفعہ آپ کو دنیا میں دکھائی دیتا ہے کہ جب وہ لین دین کرتے ہیں تو اپنی فکر نہیں ہوتی اپنے سے زیادہ دوسرے کی فکر کرتے ہیں اور اعلیٰ اخلاق کے نتیجے میں ایسا ہونا ایک طبعی امر ہے۔جب سودا کرتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ اس کو بھی تو کچھ فائدہ پہنچے سارا میں ہی کیوں اٹھاؤں۔کوئی نقص ہے، کسی چیز میں تو کھول کے بیان کرتے ہیں اس خیال سے کہ میری وجہ سے کسی بھائی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔کوئی غریب ہو تو اس کو سہولت دے دیتے ہیں۔کہہ دیتے ہیں کہ اچھا اگر واپس کر سکتے ہو تو کرو نہیں تو نہ سہی ، میں چھوڑتا ہوں گھبرانے کی بات نہیں۔ایسے شخص کا ایک