خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 485 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 485

خطبات طاہر جلد 13 485 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جون 1994ء ذکر آنحضور فرمارہے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ اسے اٹھائے گا اور پوچھے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے جب وہ یہ جواب دے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔مجھے اس بات کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ درگزر سے کام لوں اور اپنے اس بندے سے شفقت کا سلوک کروں۔یہ عجیب بات ہے۔مطلب یہ ہے کہ جو خدا کے بندوں سے حسن سلوک کرتے ہیں ان کا کوئی حسن سلوک ضائع نہیں جاتا بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہ فرمائے گا کہ میرا زیادہ حق ہے حسن سلوک کرنے کا۔اگر میرے بندے نے دوسرے سے حسن سلوک کیا ہے تو آج یہ حق دار ہے کہ میں اس سے بہت بڑھ کر اس سے حسن سلوک کروں۔عقبہ بن عامر اور ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ ہم نے بھی یہی بات آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے انہی الفاظ میں سنی۔“ (مسلم کتاب البیوع۔باب فضل انظار المعسر : 2919) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے (یہ بھی صحیح بخاری سے لی گئی ہے اور اس سے پہلی جو تھی جو مسند احمد بن حنبل سے تھی) کہ آپ نے فرمایا بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔تجنس نہ کرو۔دوسروں کے عیوب کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے، یہاں تک کہ یا تو وہ اس سے نکاح کرلے یا وہ بات ختم ہو جائے۔یہ چھوٹی چھوٹی ایسی نصیحتیں ہیں جو بعض منفی پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہیں۔جن کے ہوتے ہوئے محبت قائم نہیں رہ سکتی۔اگر یہ مزاج ہوں تو یہ محبت کو کھا جاتے ہیں۔پس جہاں آپ محبت کی کوشش کریں وہاں اس بات پر نظر رکھیں کہ بعض ایسے اخلاق ہیں جو دوسرے اخلاق کو کھا جاتے ہیں اور بیک وقت دونوں قائم نہیں رہ سکتے۔آنحضور ﷺ نے جہاں مثبت تعلیمات عطا فرما ئیں وہاں محبت کو کھا جانے والے زہروں کا بھی ذکر فرمایا کہ ان سے پر ہیز رکھنا ورنہ تمہاری محبتیں ضائع ہو جائیں گی اور یا تو محبت کرنے کے اہل ہی نہیں بنو گے یا محبت بنی بنائی بگڑ سکتی ہے۔صلى اس میں پہلی بات ہے کہ بدگمانی سے بچو، بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔اور بہت سے خاندانوں میں جن کے اختلافات کے واقعات مجھ تک پہنچے ہیں ان میں میں نے دیکھا ہے کہ بدگمانی ایک بہت ہی بھیانک کردار ادا کرنے والی چیز ہے۔بعض خاوند اپنی بیوی پر اتنے بدگمان ہوتے ہیں وہ اگر کسی عزیز رشتے دار سے ہنس کر بات کر لے تو اس پر الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے کہ تم ہو ہی